اسرائیلی ‘بدمست ہاتھی’ نے ٹرمپ کے نوبل انعام کی امیدیں خاک میں ملا دیں: ڈاکٹر شوکت علی شیخ

لندن/برمنگھم — پاکستان مسلم لیگ (ق) اوورسیز یوکے کے جنرل سیکریٹری اور چودھری شجاعت حسین لورز فورم کے بانی ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی جنگیں رکوانے اور نوبل انعام حاصل کرنے کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ برمنگھم کے مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نیتن یاہو کو “اس صدی کا سب سے خطرناک دہشت گرد” اور “بدمست ہاتھی” قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے جارحانہ کردار کی سخت مذمت کی۔

عالمی امن کے لیے پاک فوج اور آرمی چیف کا کلیدی کردار

ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے عالمی سطح پر جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی حکومت اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی حکمت عملی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ:

پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لیے اس کی کوششیں ناگزیر ہیں۔

آرمی چیف ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کو کم کرنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔

خصوصاً عرب ممالک اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے میں پاکستان کی کوششوں کے دور رس نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

اسرائیلی سازش اور ٹرمپ کی پوزیشن

سینئر رہنما نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن اسرائیل نے انہیں مسلسل اشتعال دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو امید تھی کہ وہ جنگیں رکوا کر نوبل امن انعام کے حقدار بنیں گے، مگر اسرائیلی وزیراعظم کے بدکردار اور جارحانہ عزائم نے خطے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

“مسلم ممالک کو آپس کے اختلافات سے گریز کرنا چاہیے تاکہ بیرونی دشمن ہماری باہمی نااتفاقی کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔” — ڈاکٹر شوکت علی شیخ

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے مسلم لیگ (ق) کے مرکزی صدر چودھری شجاعت حسین کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی۔ انہوں نے پاک افواج کی ملکی دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے نیتن یاہو کو صدی کا خطرناک ترین دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ہی ٹرمپ کو جنگ پر اکسایا ہے۔
پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سفارتی سطح پر ایران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں