گرین پاکستان مہم کا آغاز: چودھری شجاعت حسین کی ہدایت پر ملک گیر شجرکاری مہم، 52 کروڑ پودے لگانے کا اعلان

لندن – (سی این این اردو)عالمی موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لندن اور برمنگھم میں پاکستان مسلم لیگ یوکے کی قیادت نے “گرین پاکستان” کے نام سے ملک گیر شجرکاری مہم کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے ماحولیاتی چیلنجز بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ اور عالمی تعاون (Global Cooperation) کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ یوکے کے جنرل سیکریٹری اور چودھری شجاعت حسین لورز فورم کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے لندن برمنگھم میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ پاکستان کامیاب رہا، تاہم اس کامیابی کے تسلسل کے لیے مزید عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بہت جلد “گرین پاکستان” کے نام سے ملک کو سرسبز و شاداب بنانے اور درختوں کی بے دریغ کٹائی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے بھرپور شجرکاری مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ اس مہم کا افتتاح پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی صدر چودھری شجاعت حسین اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر میں پودا لگا کر کریں گے۔

52 کروڑ پودے لگانے کا ہدف

ڈاکٹر شوکت علی شیخ کے مطابق یہ شجرکاری مہم پاکستان کے تمام صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک پھیلائی جائے گی، جہاں مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں پودے لگائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے 26 کروڑ عوام میں سے ہر فرد صرف دو پودے بھی لگائے تو یہ تعداد 52 کروڑ درختوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور ایسے حالات میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ اور عالمی تناظر

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، کاربن اخراج، اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل آج عالمی سیاست (Global Politics) اور بین الاقوامی سفارتی روابط کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی ادارے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مقامی سطح پر پائیدار اقدامات کریں۔

پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، کے لیے اس نوعیت کی شجرکاری مہمات نہ صرف قومی مفاد بلکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ ماحولیاتی ہم آہنگی (Environmental Diplomacy) کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔

سیاسی اور سماجی مؤقف

ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ جہاں دیگر قومی مسائل پر اپنا واضح مؤقف رکھتی ہے، وہیں ماحول کے تحفظ، خوشحالی کے فروغ اور درختوں کی کٹائی سے پیدا ہونے والے خطرات کے تدارک کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے مرکزی صدر چودھری شجاعت حسین کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور پاک افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

اسلام آباد کی تازہ ترین اپ ڈیٹس اور سی این این اردو کے تناظر میں یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی، سفارتی اور سماجی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔ ملک گیر شجرکاری مہم نہ صرف ماحول دوست اقدام ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج اور ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار کو بھی تقویت دے سکتی ہے۔

مہم کے باضابطہ آغاز کے بعد امکان ہے کہ مختلف شہروں میں مرحلہ وار شجرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اگر اعلان کردہ ہدف کے مطابق عوامی شرکت ممکن ہوئی تو یہ مہم ملک کی سب سے بڑی رضاکارانہ شجرکاری مہمات میں شمار ہو سکتی ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں