پنجاب حکومت کا جدید زراعت کی طرف بڑا قدم: وزیرِ زراعت سید عاشق حسین کرمانی کا بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کا دورہ

اسلام آباد: وزیرِ زراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ حکومت کا مقصد کسانوں اور شہریوں کو جدید زرعی علم اور آلات کے ذریعے بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے دورے کے دوران کہی، جو صوبے میں جدید زرعی تحقیق کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہے۔

یہ پیش رفت اس لیے اہم قرار دی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، خوراک کے تحفظ اور بڑھتی شہری آبادی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

ہائیڈروپونکس اور کنٹرولڈ انوائرمنٹ فارمنگ پر زور

وزیرِ زراعت نے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کے ہمراہ یونیورسٹی کا تفصیلی دورہ کیا۔ آمد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان، رجسٹرار، ڈینز اور سینئر فیکلٹی نے ان کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران وزیرِ زراعت نے یونیورسٹی کی جدید زرعی ٹیکنالوجیز، خصوصاً ہائیڈروپونکس اور کنٹرولڈ انوائرمنٹ فارمنگ کے شعبوں میں نمایاں خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی تحقیقی کاوشیں پائیدار زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

“دو مرلہ روف ٹاپ ہائیڈروپونک پراجیکٹ” کی اہمیت

وزیرِ زراعت نے “دو مرلہ روف ٹاپ ہائیڈروپونک پراجیکٹ” کو شہری اور نیم شہری علاقوں کے لیے گیم چینجر قرار دیا۔ ان کے مطابق:

شہری علاقوں کو سبز و زرخیز زونز میں تبدیل کرنے کا ہدف

گھریلو سطح پر نامیاتی سبزیاں اگانے کا فروغ

صحت مند طرزِ زندگی اور گھریلو بچت میں اضافہ

انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر مکمل کر کے وزیراعلیٰ پنجاب کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

سبسڈی پر جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ محکمہ زراعت ہائیڈروپونک پراجیکٹ کو سبسڈی کی بنیاد پر عوام کی دسترس میں لانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی مختلف زرعی جامعات کے ساتھ اشتراک سے کئی کامیاب منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے پائیدار، جدید اور کسان دوست ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے تحقیقی اشتراک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

تحقیقی اشتراک اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر زور

وزیرِ زراعت نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی اور محکمہ زراعت کے درمیان:

مشترکہ تحقیق

ٹیکنالوجی کی منتقلی

کسانوں کی آگاہی پروگرامز

کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ جدید زرعی ماڈلز کو عملی سطح پر کسانوں تک پہنچایا جا سکے۔

پاکستان میں پائیدار زراعت کی ضرورت

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں اتار چڑھاؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر Food and Agriculture Organization (FAO) سمیت مختلف بین الاقوامی ادارے پائیدار زرعی ماڈلز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے رہے ہیں۔

ہائیڈروپونکس اور کنٹرولڈ انوائرمنٹ فارمنگ جیسے ماڈلز عالمی رجحانات کے مطابق کم پانی میں زیادہ پیداوار کے لیے مؤثر سمجھے جاتے ہیں، جو پاکستان کے لیے طویل المدتی غذائی تحفظ کی حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں