اسلام آباد: ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان، جنہیں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپاہ) نے جنسی ہراسانی کے جرم میں عہدے سے برطرف کیا تھا، اپیل دائر کرنے کے بعد عارضی طور پر بحال ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان نیوز ٹوڈے، اسلام آباد لیٹسٹ اپڈیٹس اور گورننس سے متعلق عالمی مباحث میں نمایاں حیثیت اختیار کر چکی ہے، جہاں شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کو عالمی سیاست اور بین الاقوامی کمیونٹی میں اہمیت دی جاتی ہے۔
اپیل کے بعد 60 روزہ معطلی
ایوان صدر کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق، ڈاکٹر شہزاد علی خان نے برطرفی کے احکامات جاری ہونے کے بعد اسی روز صدرِ مملکت کے پاس اپیل دائر کی۔
وفاقی محتسب انسٹی ٹیوشن ریفارمز ایکٹ 2013 (XIV of 2013) کے سیکشن 14(2) کے تحت وفاقی محتسب برائے جنسی ہراسانی کے فیصلے کو 60 دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
ایوان صدر کے سیکریٹریٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 7 روز کے اندر اس کیس پر مزید کارروائی کرے۔
بدھ کے روز نوٹس جاری ہونے کے بعد ڈاکٹر شہزاد علی خان اپنے دفتر میں حامی عملے کے ہمراہ موجود تھے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ سی این این اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی محتسب کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ماتحت خاتون افسر ڈاکٹر عائشہ کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت دائر کی تھی، تاہم محتسب نے انہیں ہی مجرم قرار دے کر ملازمت سے برطرف کر دیا، جس کے خلاف انہوں نے صدر سے اپیل کی ہے۔
متاثرہ خاتون ڈاکٹر کا ردعمل
سی این این اردو سے گفتگو میں ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر شہزاد کو سزا دلوانے کے لیے طویل قانونی جدوجہد کی۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تو ان کے خلاف بھی جنسی ہراسانی کی شکایت دائر کی گئی۔ ان کے مطابق یہ ملکی تاریخ کا پہلا کیس ہے جس میں کسی مرد افسر نے اپنی ماتحت خاتون کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔
ڈاکٹر عائشہ نے عارضی بحالی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اپیل ایک قانونی حق ہے، تاہم سزا یافتہ شخص کا ادارے کا سربراہ بن کر بحال ہونا خطرناک ہے، خصوصاً جب ہیلتھ سروسز اکیڈمی میں سینکڑوں خواتین ڈاکٹرز اور عملہ موجود ہیں۔
انہوں نے ایوان صدر سے مطالبہ کیا کہ اپیل پر کارروائی مکمل ہونے تک ڈاکٹر شہزاد کے ادارے میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ خواتین عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی محتسب کا فیصلہ کیا تھا؟
گزشتہ ہفتے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپاہ) نے ڈاکٹر شہزاد علی خان کو جنسی ہراسانی کا جرم ثابت ہونے پر عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
فوسپاہ کے ترجمان کے مطابق فیصلہ وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے دو مختلف شکایات پر سنایا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شہزاد علی خان بغیر کسی شک و شبہ کے ہراسانی کے مرتکب پائے گئے۔ فیصلے میں معاملے کو “کچھ لو اور کچھ دو” نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وائس چانسلر نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ غیر مناسب تعلق قائم کیا۔
مزید کہا گیا کہ انہوں نے اپنی ایک طالبہ کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے ملازمت دلوائی اور مراعات فراہم کیں۔ فوسپاہ کے مطابق اگر انہیں بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کے خدشات موجود رہیں گے، لہٰذا انہیں عہدے سے ہٹانا ضروری تھا۔
فوسپاہ نے ڈاکٹر شہزاد کی جانب سے خاتون ڈاکٹر کے خلاف دائر شکایت مسترد کر دی جبکہ خاتون ڈاکٹر کی شکایت منظور کر لی گئی۔ مالی بدعنوانی، رضامندی اور مبینہ ہنی ٹریپنگ کے الزامات بھی شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیے گئے۔
ادارہ جاتی احتساب اور پاکستان میں قانونی فریم ورک
پاکستان میں سرکاری اداروں میں ہراسیت کے خلاف قانونی کارروائی “تحفظِ خواتین ہراسگی ایکٹ” اور وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار کے تحت کی جاتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی اقوام متحدہ (UN) اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں ادارہ جاتی احتساب، صنفی برابری، اور محفوظ ورک پلیس پالیسیوں پر زور دیتی ہیں۔ پاکستان میں ایسے کیسز کو گورننس، شفافیت، اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جو بین الاقوامی کمیونٹی اور عالمی سیاست کے مباحث میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک تعلیمی ادارے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں احتسابی نظام، اپیل کے قانونی حق، اور خواتین کے تحفظ جیسے اہم موضوعات سے جڑا ہوا ہے۔
اب نگاہیں ایوان صدر کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں، جو آئندہ چند دنوں میں کیس کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف ہیلتھ سروسز اکیڈمی بلکہ دیگر سرکاری اداروں میں بھی ادارہ جاتی نظم و ضبط اور قانونی نظائر پر پڑ سکتے ہیں۔