اسلام آباد: پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر Pakistan National Heart Association (پناہ) کے وفد نے پارلیمانی سیکریٹری برائے تجارت ذوالفقار علی بھٹی سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان نیوز ٹوڈے اور عوامی صحت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
وفد میں جنرل سیکریٹری پناہ ثناء اللہ گھمن، نائب صدر غلام عباس اور سابق کمشنر ایف بی آر عبدالحفیظ شامل تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں دل کے امراض، ذیابیطس، کینسر اور سانس کی بیماریوں میں تشویشناک اضافے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
غیر متعدی امراض: صحت عامہ اور قومی معیشت کے لیے خطرہ
پناہ کے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو نوشی اور غیر صحت بخش غذائیں ان بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ وفد کے مطابق یہ مسئلہ صرف صحت عامہ تک محدود نہیں بلکہ قومی معیشت پر بھی ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق صحت کے بڑھتے اخراجات، ہسپتالوں پر دباؤ اور پیداواری صلاحیت میں کمی جیسے عوامل پاکستان کی معاشی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان میں پبلک ہیلتھ پالیسی اور حکومتی ترجیحات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کی متقاضی ہے۔
پالیسی تجاویز: سبسڈی اور تمباکو مصنوعات پر نظرثانی ملاقات میں وفد نے مطالبہ کیا کہ:
چینی اور گھی کو سبسڈی کے تحت لازمی اشیاء کی فہرست سے خارج کیا جائے
شیشہ، ای سگریٹ اور دیگر نئی تمباکو مصنوعات پر پابندی عائد کی جائے
وفد کا مؤقف تھا کہ سبسڈی کے ذریعے غیر صحت بخش اشیاء کی حوصلہ افزائی دراصل صحت کے بحران کو بڑھا رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے۔
پناہ نے امید ظاہر کی کہ حکومت مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کے ذریعے غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
نوجوان نسل کے مستقبل پر زور
پارلیمانی سیکریٹری جناب ذوالفقار علی بھٹی نے وفد کی تجاویز کو غور سے سنا اور عوامی صحت کے فروغ کے لیے اپنے بھرپور تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا: “پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اُن کے صحت مند مستقبل کے لیے حکومت کو فوری پالیسی اقدام اٹھانا ضروری ہے۔”
یہ بیان اسلام آباد کی حالیہ پالیسی مباحث میں نوجوانوں کی صحت کو مرکزی حیثیت دینے کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان میں این سی ڈیز کا بڑھتا بحران
عالمی سطح پر غیر متعدی امراض کو صحت کے بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور پاکستان بھی اس رجحان سے متاثر ہو رہا ہے۔ دل کے امراض اور ذیابیطس کے بڑھتے کیسز نے صحت عامہ کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو کنٹرول، غذائی اصلاحات اور عوامی آگاہی مہمات کے بغیر اس بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ پاکستان میں صحت سے متعلق پالیسی اقدامات اب قومی سطح کی ترجیح بنتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف داخلی استحکام بلکہ عالمی صحت کے اہداف سے ہم آہنگی کے لیے بھی ضروری ہیں۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھی جاتی ہے۔ اگر غیر متعدی امراض پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف صحت کا نظام متاثر ہوگا بلکہ معاشی ترقی بھی سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔
حکومتی سطح پر سبسڈی پالیسی، تمباکو کنٹرول قوانین اور غذائی ضوابط میں ممکنہ تبدیلیاں آئندہ مہینوں میں اہم قانون سازی یا انتظامی فیصلوں کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔
متعلقہ حکومتی ادارے پناہ کی تجاویز پر غور کریں گے، جبکہ صحت عامہ کے ماہرین امید کر رہے ہیں کہ آئندہ بجٹ یا پالیسی اعلانات میں عوامی صحت کو ترجیح دی جائے گی۔ اسلام آباد کی تازہ ترین اپڈیٹس کے مطابق، نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے بین الوزارتی مشاورت بھی متوقع ہے۔