ٹینور ٹریک یونیورسٹی اساتذہ کے لیے مراعات بجٹ میں شامل ہوں گی: احسن اقبال

اسلام آباد: سوموار کے روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے فروری 2026 کے ماہانہ ترقیاتی اپڈیٹ کے حوالے سے زرائع ابلاغ کو بریفنگ دی۔اس موقع پر زرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سولات کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں یونیورسٹی اساتذہ کے لیے مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ شامل ہو گا. انہوں نے کہا ٹینور ٹریک پالیسی کے تحت یونیورسٹی اساتذہ کو بنیادی پے سکلیل سے 35 فیصد زائد تنخواہوں کا وعدہ کیا گیا تھا. تاہم بعد ازاں ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جو کہ ٹینور ٹریک اساتذہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے. جبکہ بنیادی پے سکیل والے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ ہو تا رہا ٹینور ٹریک سے بھی زیادہ ہو گیا.

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا اساتذہ کے مسائل کے نتیجے میں اعلی تعلیم کے معیار میں کمی ہوئی ہے. جبکہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے.حکومت نے آئندہ بجٹ میں ٹینور ٹریک یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں خاطرخواہ اضافہ تجویز کیا ہے. جبکہ جدید علوم کے اساتذہ کے لیے مزید مراعات بھی تجویز کی گئی ہیں.

انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاحت کی صنعت کے فروغ کے لیے صوبوں کے ساتھ مشترکہ ٹورزم اتھارٹی قائم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں.اٹھارویں ترمیم کے بعد سیاحت کی صنعت صوبوں کو منتقل ہو گئی تھی. جس کے نتیجے میں سیاحت کی صنعت متاثر ہوئی. تاہم حکومت کو ادراک ہے کہ صوبائی سیاحت کا سلوگن یرون ملک کے سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے کافی نہیں ہے. اس کے لیے سیاحت کا قومی سلوگن ضروری ہے.

پوفیسر احسن اقبال نے رپورٹ کے اجرا کی تفصیلات بتاتے ہویے کہا کہ اُڑان پاکستان فریم ورک کے تحت ملک کی معیشت میں نمایاں استحکام اور ترقیاتی منصوبوں میں عملی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال اور زمینی حقائق پر مبنی ترقیاتی کارکردگی کو اجاگر کیا گیا۔

.مالی سال 2025-26 کے دوران مہنگائی کی شرح جولائی تا جنوری 5.2 فیصد رہی جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 6.5 فیصد تھی.پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد تک پہنچ گئی جو پچھلے سال 1.6 فیصد تھی۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں جولائی تا نومبر 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور 22 میں سے 16 شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا جنوری 7.2 کھرب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال 6.5 کھرب روپے تھیں.

ترسیلاتِ زر میں 10.6 فیصد اضافے کے ساتھ یہ حجم 19.7 ارب ڈالر رہا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 31 جنوری 2026 کو 184,174 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ رمضان المبارک سے قبل وزیراعظم کے رمضان ریلیف پیکج کو مزید وسعت دی گئی ہے، جس کے تحت نقد امداد 12 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دی گئی ہے اور مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد 17 لاکھ تک پہنچا دی گئی ہے۔سی ڈی ڈبلیو پی کے جنوری 2026 میں 19 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 9 منصوبے ایکنک کو سفارش کے لیے بھیجے گئے۔ منصوبوں میں 5.5 ارب روپے کی مجموعی بچت کی گئی۔

وفاقی وزیر نے ابتدائی بچپن کی نشوونما کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 15 جنوری 2026 کو میڈرڈ میں یونیسف، عالمی ادارۂ صحت اور حکومتِ اسپین کے اشتراک سے منعقدہ اعلیٰ سطحی فورم میں اس شعبے میں پاکستان کی قیادت کو سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے مطابق بچے کی 90 فیصد سے زائد نشوونما ابتدائی پانچ برسوں میں ہوتی ہے، تاہم پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے منظم ابتدائی نگہداشت اور تعلیم سے محروم ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قومی سطح پر ارلی چائلڈہُڈ کیئر کانفرنس کے انعقاد، آئندہ عالمی فورم کی میزبانی اور صوبوں کے ساتھ مربوط قومی ایکشن پلان پر کام جاری ہے۔ مستحکم ہوتی معیشت، صنعتی بحالی، مالی نظم و ضبط اور ترقیاتی منصوبوں کی مضبوط پائپ لائن کے باعث مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان کا ترقیاتی منظرنامہ مثبت اور مضبوط ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں