ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا کا گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال کا دورہ، سکھ مذہبی ورثے کے تحفظ پر پاکستان کی تعریف

اسلام آباد: ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا نے سکھ مذہب کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک گوردوارہ سری پنجہ صاحب، حسن ابدال کا دورہ کیا۔ یہ دورہ پاکستان کی جانب سے مذہبی رواداری، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی اداروں کے ساتھ مثبت سفارتی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔

گوردوارہ سری پنجہ صاحب کا دورہ

دورے کے دوران ورلڈ بینک کے صدر نے گوردوارہ سری پنجہ صاحب میں مذہبی دعائیں کیں اور بعد ازاں لنگر ہال میں کھانا تناول کیا۔ انہوں نے گوردوارے کے حسن اور روحانی ماحول پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) نے اس مقدس مقام کو اس کی اصل حالت میں نہایت خوبصورتی اور احتیاط سے محفوظ رکھا ہے۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی وزیر محمد اورنگزیب اور صوبائی وزیر و پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑا بھی موجود تھے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے پرتپاک استقبال

ورلڈ بینک کے صدر کی آمد پر ای ٹی پی بی کے ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق اور ایڈمنسٹریٹر راولپنڈی نے معزز وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ دورے کے دوران سکیورٹی اور انتظامی امور کو مثالی قرار دیا گیا۔

صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ ورلڈ بینک کے صدر کا یہ دورہ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت پیغام دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق نے کہا کہ دنیا بھر کے سکھ، بشمول بھارت، پاکستان سے محبت اور عقیدت کا رشتہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکھ یاتری پاکستان سے امن، محبت اور رواداری کا پیغام لے کر واپس جاتے ہیں۔

پاکستان اور سکھ مذہبی ورثہ

پاکستان کو سکھ مت کی جنم بھومی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وفاقی وزارتِ مذہبی امور اور چیئرمین ای ٹی پی بی قمر زمان کی ہدایات کے مطابق ملک بھر میں تاریخی گوردواروں کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام جاری ہے، جس پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔

یہ دورہ نہ صرف پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ پاکستان کے مثبت تعلقات کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ دنیا بھر سے سکھ یاتری بڑی تعداد میں پاکستان آئیں اور اپنے مقدس مقامات کی بہترین دیکھ بھال کا مشاہدہ کریں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں