سابق وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے اڈیالہ جیل میں قید کے دوران دائیں آنکھ میں بینائی کم ہونے کی شکایت کے بعد طبی علاج کروایا ہے، جس کی تصدیق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی جانب سے جاری طبی اپ ڈیٹ میں کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 74 سالہ عمران خان کا جامع معائنہ سینئر آنکھ کے ماہر نے جیل میں کیا، جس میں سلٹ-لیمپ معائنہ، فنڈوسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، متعلقہ لیبارٹری ٹیسٹ اور ریٹینا کا آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (او سی ٹی) اسکین شامل تھا۔
معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے عمران خان کی دائیں آنکھ میں “سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن” کی تشخیص کی اور ہسپتال میں فالو اپ علاج کی ہدایت دی۔ اس سفارش پر انہیں ہفتے کی درمیانی شب پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ضروری علاج فراہم کیا گیا۔ علاج میں اینٹی وی ای جی ایف انسٹرائیوٹرل انجیکشن شامل تھا، جس کے بارے میں تفصیلی وضاحت کی گئی اور مریض کی رضامندی حاصل کی گئی۔ انجیکشن آپریشن تھیٹر میں معیاری سٹرائل شرائط اور طبی نگرانی کے تحت دیا گیا۔
تقریباً 20 منٹ تک جاری رہنے والا یہ عمل بغیر کسی پیچیدگی کے مکمل ہوا اور دوران علاج عمران خان کی صحت مستحکم رہی۔ انہیں علاج کے بعد کی دیکھ بھال اور فالو اپ کے ہدایات کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔
پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ دوران علاج عمران خان کی صحت مستحکم رہی اور انہیں بعد از آپریشن ہدایات کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کیا گیا۔
وزیر اطلاعات کی جانب سے علاج کی تصدیق کے بعد تحریکِ انصاف نے اپنے ذاتی معالج کو رسائی دینے کا مطالبہ دہرایا، جبکہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کے طبی معائنے سے متعلق درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کیے تھے۔
تحریکِ انصاف کے چند روز قبل کے بیان میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں “سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن” کی تشخیص ہوئی اور انہیں علاج کے لیے اسلام آباد لایا گیا۔