جاپان (سی این این اردو) جاپان میں پاکستان کے سفیر نے جاپان میں مقیم شہریوں کے ایک وفد سے ملاقات کی اور بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ یہ ملاقات عالمی سیاست اور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ملاقات کے دوران سفیر پاکستان نے 5 جنوری کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی، جو ہر سال یومِ حقِ خودارادیت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے 1949 کی اقوامِ متحدہ کمیشن برائے بھارت و پاکستان (UNCIP) کی قرارداد کو یاد دلایا، جس میں کشمیری عوام کو آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا حق دینے کی ضمانت دی گئی تھی۔
سفیر نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ حق تاحال کشمیری عوام کو نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کشمیری عوام کی جرات، استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سفارتی فورم پر ان کے جائز حق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔
یہ پیش رفت ورلڈ نیوز اور بین الاقوامی سفارت کاری کے تناظر میں اس لیے اہم ہے کہ پاکستان ایک بار پھر واضح کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بدستور اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر ایک تسلیم شدہ تنازع ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف
1948 سے پاکستان اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اجاگر کرتا آ رہا ہے۔ UNCIP کی قراردادیں پاکستان کے قانونی اور سفارتی مؤقف کی بنیاد ہیں، جنہیں پاکستان مختلف بین الاقوامی فورمز اور دو طرفہ ملاقاتوں میں مسلسل اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان آئندہ بھی مختلف دارالحکومتوں اور عالمی پلیٹ فارمز پر سفارتی رابطے جاری رکھے گا تاکہ مسئلہ کشمیر عالمی توجہ کا مرکز بنا رہے۔ حکام کے مطابق خطے میں امن اور استحکام کے لیے کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام ناگزیر ہے۔