اسلام آباد: اسلام آباد میں پاکستان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں مسز مصباح کہر، چیئرمین سینٹ کی مشیر اور انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس (ISC) کی سفیر نے ازبکستان کے سینٹر حسان ارماٹوف سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دونوں فریقین نے پاکستان-ازبکستان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
مسز کہر نے پاکستان اور ازبکستان کے مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو اجاگر کیا اور ان کے مشترکہ ثقافتی، مذہبی اور تاریخی روابط کو اہمیت دی۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے مثبت ارتقا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ازبکستان کے ساتھ تعاون کے فروغ میں حالیہ سفارتی کامیابیوں کو سراہا، خاص طور پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے تشکنت کے دورے کو ایک سنگ میل قرار دیا۔ اس دورے کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، ایک ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کا قیام عمل میں آیا اور دونوں ممالک کے درمیان جامع روڈ میپ تیار کیا گیا جس میں واضح ٹائم لائنز طے کی گئی ہیں۔
پارلیمانی تعاون کو تعلقات کی بنیاد قرار دینا
اس ملاقات میں پارلیمانی تعاون کو ایک اہم ستون کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ مسز کہر نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد میں کامیاب انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس کے بعد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان پارلیمانی تبادلے کو نیا رخ ملا ہے۔ دونوں فریقین نے پارلیمانی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا، جو باہمی سمجھ بوجھ، ادارہ جاتی روابط اور صلاحیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تجارت اور اقتصادی تعلقات میں اضافہ
اقتصادی میدان میں دونوں ممالک نے تجارتی اور سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ مسز کہر نے پاکستان کی جوان آبادی کو ایک قیمتی اثاثہ قرار دیا جو علاقائی ترقی میں، ازبکستان کے ساتھ تعاون میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے دو طرفہ تجارت کو آئندہ چند سالوں میں 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں بہتر ہوا ایئر کنیکٹیویٹی اور براہ راست پروازوں کا آغاز ایک اہم عنصر ثابت ہو گا۔ یہ کنیکٹیویٹی پاکستان اور ازبکستان کے درمیان لوگوں کے روابط اور کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
مزید برآں، ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ اور دیگر کثیر الجہتی نقل و حمل کے منصوبے علاقائی روابط کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک نے ان منصوبوں کو علاقائی یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ضروری قرار دیا۔
آگے چل کر، پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اور مستقبل میں اعلیٰ سطحی دورے، تجارتی معاہدے اور علاقائی منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دیا جائے گا۔ پاکستان-ازبکستان تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، جو علاقائی یکجہتی اور طویل مدتی خوشحالی کے لیے اہم ہے۔