اسلام آباد : وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج اسلام آباد میں نیسلے پاکستان کے سینئر وفد سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے حکومت کی معاشی اصلاحات، شفاف ٹیکس نیٹ، اور فارمل معیشت کے فروغ کے عزم کو ایک بار پھر واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام کی بہتری، غیر رسمی معیشت کے خلاف کارروائیاں، اور بہتر گورننس اسٹیٹ بینکنگ اور نجی شعبے دونوں کے لیے مضبوط اشارہ ہیں۔
ٹیکس پالیسی آفس — ایک اہم ساختی اصلاح
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے، جو پالیسی سازی، صنعت سے مشاورت، اور مسلسل اصلاحات کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی شعبے کے خلاف جاری اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور یہ عمل مستقبل میں مزید تیز کیا جائے گا۔
نیسلے پاکستان کی پیش رفت اور اقتصادی کردار
نیسلے پاکستان کے سی ای او جیسن اوانسیٰ کی قیادت میں وفد نے حکومت کو کمپنی کے طویل مدتی منصوبوں، مقامی سورسنگ، جدید آٹومیشن، اور پائیدار پیداواری نظام سے متعلق بریفنگ دی۔
کمپنی نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں درآمدات میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، جس سے نہ صرف مقامی صنعت کو فائدہ ہوا بلکہ پاکستان کی مجموعی معیشت میں استحکام پیدا ہوا۔
وزیر خزانہ نے نیسلے کی مقامی کاری (Localization) کی کوششوں کو سراہا اور ٹیکس پالیسی آفس کے ساتھ قریبی تعاون کا خیرمقدم کیا تاکہ ٹیکس وصولی بہتر ہو، شعبہ جاتی مسائل حل ہوں، اور مقامی صنعت کو تقویت ملے۔
علاقائی تجارت اور برآمدات پر گفتگو
ملاقات میں پاکستان کی علاقائی تجارت، وسطی ایشیا کے ساتھ نئی راہداریوں، برآمدات کے مواقع، اور سپلائی چین کی بہتری جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا—یہ وہ عناصر ہیں جو عالمی سیاست اور پاکستان کی جغرافیائی حکمتِ عملی کے تناظر میں بڑے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ڈاؤس میں عالمی قیادت کی ملاقات
نیسلے کی عالمی قیادت آئندہ ہفتوں میں ورلڈ اکنامک فورم (WEF) ڈاؤس میں وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرے گی، جس میں مستقبل کی سرمایہ کاری، سسٹین ایبلٹی، زرعی اصلاحات، بچوں کی غذائیت اور ڈیری پروڈکشن کی استعداد بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔
وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ حکومت پالیسی کے استحکام، کاروباری اعتماد، جدید ٹیکنالوجی، اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے نجی شعبے کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔
پاکستان، اقتصادی اصلاحات اور عالمی تعاون
پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، اور خطے کی بڑی کارپوریشنز کے ساتھ اقتصادی تعاون، ٹیکس اصلاحات، فارملائزیشن، اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ایجنڈے پر بھرپور کام کر رہا ہے۔
اس تناظر میں نیسلے جیسی عالمی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور مقامی سرمایہ کاری ملک کی معاشی بحالی کے لیے مثبت اشارہ ہے۔