تحریر تحقیق: عابد صدیق چوہدری(چیئرمین APNEC پنجاب)
آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایمپلائیز کنفیڈریشن (APNEC) پاکستان میں اخباری کارکنوں، الیکٹرانک میڈیا ورکرز، تکنیکی اسٹاف، سرکولیشن عملے، پروڈکشن ورکرز، اور نان ایڈیٹوریل میڈیا اسٹاف کی سب سے بڑی قومی یونین کنفیڈریشن ہے۔ یہ تنظیم ملک بھر کی اخباری اور الیکٹرانک میڈیا یونینز کو متحد کرتی ہے اور ملازمین کے حقوق، اجرت، سروس اسٹرکچر، ملازمت کے تحفظ، میڈیا آزادی، اور لیبر قوانین کے نفاذ کے لیے کام کرتی ہے۔
پاکستان کے میڈیا ورکرز کی ایپنک واحد قومی کنفیڈریشن ہے جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کے کارکن شامل ہیں۔
قیام — 1974
ایپنک کی بنیاد 1974 میں اس ضرورت کے پیش نظر رکھی گئی کہ ملک بھر کے اخباری اور میڈیا ورکرز کو ایک متحد قومی پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ اُس وقت اخبارات میں:
کم تنخواہیں
بے ربط سروس اسٹرکچر
غیر قانونی برطرفیاں
اور خراب ورکنگ کنڈیشنز
عام تھیں۔ اسی پس منظر میں مختلف شہروں کی اخباری یونینز نے مل کر ایک قومی کنفیڈریشن قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
یوں 1974 میں “آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائیز کنفیڈریشن (APNEC)” کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں الیکٹرانک میڈیا ورکرز کو شامل کر کے موجودہ اہم اور مکمل نام اختیار کر گیا:
آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایمپلائیز کنفیڈریشن (APNEC)
تاریخی پس منظر
1960–1970 کی دہائی میں پاکستان میں صحافت اور میڈیا اداروں کو سرکاری پابندیوں، سنسرشپ، معاشی دباؤ، اور صنعتی مسائل کا سامنا تھا۔ اس دور میں:
اخباری ورکرز کی تنخواہیں غیر منظم تھیں
لیبر قوانین کا اطلاق محدود تھا
اخبارات میں یونینز کو دبایا جاتا تھا
میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے کوئی متحد قومی پلیٹ فارم نہیں تھا
1974 میں APNEC کے قیام نے اس خلا کو پُر کیا اور پہلی بار میڈیا ورکرز کو ایک منظم قومی آواز ملی۔
نمایاں رہنماؤں اور تاریخی شخصیات
منہاج برنا — معروف صحافی اور تنظیمی رہنما، جنہوں نے APNEC کی بنیاد رکھی اور صحافیوں کی تنظیمی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دیگر اہم رہنما: عبدالحمید چپڑا، پرویز شوکت، نصیر زیدی وغیرہ، جنہوں نے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
نئے دور میں توسیع — الیکٹرانک میڈیا کی شمولیت
2000 کے بعد پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی چینلز، نیوز چینل، ڈیجیٹل میڈیا) نے زور پکڑا۔ APNEC نے اس نئے شعبے کو اپنے پلیٹ فارم میں شامل کیا، جس میں شامل ہوئے:
نیوز چینلز کے رپورٹرز، ٹیکنیکل اسٹاف
نان جرنلسٹ ورکرز
ڈیجیٹل میڈیا ورک فورس
فیلڈ ٹیکنیشنز
ماسٹر کنٹرول روم عملہ
یوں APNEC صرف “اخباری کارکنوں” تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے تمام میڈیا ورکرز کی نمائندہ کنفیڈریشن بن گئی۔
مشن اور مقاصد
APNEC پاکستان میں میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے درج ذیل اہم کردار ادا کرتی ہے:
ورکنگ کنڈیشنز کو بہتر بنانا
منصفانہ تنخواہوں کا حصول
سروس اسٹرکچر کی بہتری
اوور ٹائم، بونس، اور واجبات کی فراہمی
قانونی حقوق کا تحفظ
لیبر قوانین کے عملی نفاذ کی جدوجہد
آزادی صحافت کا تحفظ
چھوٹی یونینز کی تنظیم سازی
میڈیا مالکان اور حکومتی اداروں سے مذاکرات کی طاقت میں اضافہ
تنظیمی ڈھانچہ
APNEC پورے پاکستان میں ایک فیڈریشن کی شکل میں قائم ہے:
مرکزی چیئرمین
مرکزی سیکرٹری جنرل
وائس چیئرمین / جوائنٹ سیکرٹری
صوبائی چیئرمین
صوبائی سیکرٹری جنرل
ڈویژنل یونینز
ضلعی یونینز
ورکنگ کمیٹی / کونسل
مرکزی قیادت (2025–2027)
مرکزی چیئرمین: محمد صدیق انظر
محمد صدیق انظر ایک تجربہ کار تنظیم ساز اور صحافتی مزدور رہنما ہیں۔ وہ دوسری مرتبہ 2سال کے لئے مرکزی چئیرمین ایپنک منتخب ہوئے ہیں۔ وہ اس وقت میڈیا ایمپلائز کی مضبوط آواز، اور پورے پاکستان میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ورکرز کی نمائندگی کرتے ہیں .وزیراعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم برائے جرنلسٹس و میڈیا ورکرز کے لئے وزیراعظم میاں شہباز شریف سے ایک ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری کرائی اور ملک بھر کے 5000 سے زائد میڈیا ایمپلائز کو ملک کے بہترین ہسپتالوں سے مفت علاج معالجے کی سہولت لیکر دی جو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے ایک اہم سہولت ہے
مرکزی سیکرٹری جنرل: عبدالصمد مینگل
بلوچستان سمیت ملک بھر میں کارکنوں کے حقوق کے لیے سرگرم
پنجاب چیئرمین: عابد صدیق چوہدری
پنجاب جنرل سیکرٹری: سردار اعجاز خان شہانی
سندھ چیئرمین: ایم بی عباسی
سندھ جنرل سیکرٹری: سید انوار علوی
بلوچستان چیئرمین: حیدر خان اچکزئی
بلوچستان جنرل سیکرٹری: یاسر جدون
گلگت بلتستان چیئرمین: مہوش ممتاز بیگ
گلگت بلتستان جنرل سیکرٹری: وزیر نصرت علی
خیبر پختونخوا چیئرمین: عبدالودود بیگ
خیبر پختونخوا سیکرٹری جنرل: ڈاکٹر نعمان
APNEC پنجاب — صوبائی چیپٹر
چیئرمین: عابد صدیق چوہدری
جنرل سیکرٹری: اعجاز شاہانی
اہم خدمات:
پنجاب بھر میں یونینز کی تنظیم نو
ورکنگ کلاس کے مسائل پر مؤثر آواز
میڈیا اداروں سے مذاکرات
لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ وغیرہ میں مضبوط نیٹ ورک
APNEC کی جدوجہد (1974–2024)
ویج بورڈ ایوارڈز کے حصول کے لیے طویل جدوجہد
غیر قانونی برطرفیوں کے خلاف اقدامات
آزادی صحافت کی تحریکوں میں شرکت
ملک گیر نمائندگی
معاشی بحران میں ورکرز کے بقایا جات کی بازیابی
میڈیا ہاؤسز کے خلاف احتجاجی تحریکیں
APNEC کا پاکستان میں کردار اور اہمیت
میڈیا ورکرز کے حقوق کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے تمام عملے کی متحد آواز
ملک بھر میں لیبر تحریک کا اہم حصہ
قانونی اصلاحات اور میڈیا پالیسی سازی میں مؤثر کردار
نتیجہ
APNEC گزشتہ تقریباً 50 سال سے پاکستان کے میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے۔ اس نے:
ہزاروں کارکنان کے حقوق کی جنگ لڑی
ملک بھر میں یونینز کو منظم کیا
آزادی صحافت کی جدوجہد میں حصہ ڈالا
میڈیا ورکرز کو ایک مضبوط اجتماعی پلیٹ فارم مہیا کیا
یہ تنظیم آج بھی پاکستان کے میڈیا ورکرز کی سب سے طاقتور آواز ہے۔
APNEC کی اہم جدوجہد: احتجاجات، قانونی کیسز اور ویج بورڈ ایوارڈز (1974–2025)
یہ سیکشن APNEC کی تاریخی جدوجُہد کو ایک تحقیقی زاویے سے بیان کرتا ہے، خاص طور پر مزدور حقوق، ویج بورڈ ایوارڈز، اور قانونی لڑائیوں کی روشنی میں۔
1. ویج بورڈ ایوارڈز اور قانونی جدوجُہد
APNEC نے میڈیا ورکرز کی اجرتوں کے لیے ویج بورڈ ایوارڈز کے قیام اور نفاذ کی مسلسل جدوجُہد کی ہے۔ IFJ رپورٹ کے مطابق “اب تک آٹھ ویج بورڈ ایوارڈز” جاری کیے گئے ہیں۔
خاص طور پر 7واں ویج بورڈ ایوارڈ (Seventh Wage Board Award) بہت تنازعہ کا باعث بنا تھا۔ PFUJ اور APNEC نے مل کر مطالبہ کیا کہ یہ ایوارڈ “سرکاری اشتہارات کو ویج ایوارڈ کی نفاذ سے مشروط کیا جائے” تاکہ میڈیا مالکان ایوارڈ پر عمل کرنے پر مجبور ہوں۔
اس تناظر میں، 2008 میں PFUJ اور APNEC نے آٹھویں ویج بورڈ کے قیام کا مطالبہ کیا۔
ان جدوجہدوں کا بین الاقوامی سطح پر بھی نوٹس لیا گیا: FIDH (انٹرنیشنل فیڈریشن برائے انسانی حقوق) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ APNS (میڈیا مالکان کی نمائندہ تنظیم) طویل عرصے سے ویج ایوارڈ پر عمل درآمد سے گریز کرتی رہی ہے، مگر عدالتی فیصلہ کارکنوں (اور ان کی یونینز) کے حق میں آیا تھا۔
IFJ / IRADA کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض ویج بورڈ فیصلے، اگرچہ جاری کیے گئے، مگر ان پر عمل درآمد میں مشکلات ہیں، اور روزنامہ کارکنوں کو باقاعدہ قانونی اور مالی تحفظ فراہم کرنے میں خامیاں ہیں۔
2. احتجاجات اور مظاہرے
APNEC میڈیا ورکرز کے حقوق پر مبنی احتجاجات میں حصہ لیتا ہے، خاص کر جب تنخواہیں نہ دی جائیں یا ملازمین کو نوکری سے فارغ کرے۔ مثال کے طور پر، ڈیڑھ میڈیا ورکرز نے حکومتی منصوبوں اور میڈیا مالکوں کی جانب سے بے روزگاری اور تنخواہوں کی تاخیر کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
2012 میں، جب 7واں ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ میں تاخیر ہوئی، PFUJ اور APNEC نے “بلیک ڈے” منایا اور احتجاجی مہم چلائی۔
APNEC کی مقامی یونٹس (مثلاً بھکر یونٹ) نے بھی علاقائی سطح پر تنظیمی عمل اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر، 12 نومبر 2024 کو بھکر یونٹ کی قیام تقریب ہوئی، جہاں APNEC کی مرکزی قیادت اور مقامی نمائندگان نے شرکت کی اور میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود، بیمہ، اور انشورنس اسکیمز پر بات چیت کی۔
29 دسمبر 2024 کو راولپنڈی / اسلام آباد میں APNEC کا اجلاس ہوا، جس میں مرکزی قیادت اور صوبائی نمائندے موجود تھے۔
3. ڈیجیٹل میڈیا اور قانونی اصلاحات کی جدوجہد
APNEC کو جدید دور میں ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کی قانونی شناخت اور تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں ڈجیٹل صحافیوں کو “پرانے قوانین” کے تحت مناسب قانونی حقوق حاصل نہیں ہیں۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “نیوز پیپر ایمپلائز ایکٹ (نیکوسا) 1973” جو پرنٹ میڈیا ورکرز کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے، ڈیجیٹل کارکنوں کے لیے ناکافی ہے۔
اس کے علاوہ، رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی ہے کہ ویج بورڈ کے فیصلے (مثلاً 8واں ایوارڈ) پر عمل درآمد نہ ہونے جیسے مسائل ہیں۔
4. بین الاقوامی اور انسانی حقوق کا پہلو
APNEC کی جدوجُہد میڈیا ورکرز کی مزدور حقوق کی جدوجُہد میں بین الاقوامی محاذ پر بھی تسلیم کی گئی ہے۔ IFJ کی رپورٹ میں APNEC کو “صحافیوں کے بنیادی لیبر حقوق کے دفاع میں اہم شرکت کنندہ” کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
FIDH کی رپورٹ میں APNEC اور دیگر صحافتی یونینز کی قانونی جدوجہد، عدالتی فیصلے، اور عدالتی دفاعی حکمتِ عملی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
تجزیہ اور اثرات
APNEC کی ویج بورڈ کی جدوجہد نے میڈیا ورکرز کو قانونی اور مالی طاقت دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ان احتجاجات اور قانونی لڑائیوں نے میڈیا مالکان پر دباؤ بڑھایا ہے، تاکہ کارکنوں کی محنت کا معاوضہ مناسب طور پر ملے اور نوکریوں کا تحفظ بہتر ہو۔
ڈیجیٹل میڈیا کے آنے کے بعد، APNEC کی جدوجُہد مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ موجودہ قوانین جدید میڈیا کارکنوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے۔
APNEC کا یہ مسلسل کردار اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ میڈیا ورکرز کے حقوق صرف ملازمت کی سطح پر نہیں بلکہ قانونی اور پالیسی سازی کی سطح پر بھی جدوجُہد کا حصہ ہیں۔
APNEC کی سال بہ سال ٹائم لائن (1974–2025) — اہم واقعات، احتجاجات اور قانونی جدوجہد
یہ ٹائم لائن APNEC کی تاریخی جدوجُہد اور نمایاں موڑ کو ابھارتی ہے، خاص طور پر ویج بورڈ ایوارڈز، احتجاجات، اور پالیسی / قانونی کامیابیوں کی روشنی میں:
سال اہم واقعات اور جدوجُہد
1974 APNEC کی بنیاد رکھی گئی۔ مختلف مقامی اخباری یونینز نے متحد ہو کر قومی کنفیڈریشن قائم کی جس کا مقصد اخباری ورکرز کے حقوق کی حفاظت ہے۔
1977–1988 منہاج برنا (Minhaj Barna) کا فعال دور، جو APNEC اور PFUJ میں تنظیمی جدوجُہد کا اہم چہرہ رہے۔
2003 کراچی میں APNEC کارکنوں نے روزنامہ ملازمین کے حق میں دھرنا دیا، غیر نفاذ شدہ ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ کی بنیاد پر احتجاج کیا گیا۔
2006 APNEC اور PFUJ نے احتجاج کیا کہ اخباری کارکنوں کو عید کی چھٹیوں کے معاملے میں زیادتی ہو رہی ہے — APNS کی طرف سے صرف ایک دن کی ایڈ ہولیڈے کی تجویز پر دونوں تنظیموں نے مخالفت کی۔
2008 – ڈھائی میڈیا ورکرز کی طرف سے ملک گیر احتجاج: محمد اعظم خان، ایک نجی چینل ملازم، نے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کر لی، جس پر APNEC اور PFUJ نے ملک گیر مظاہرے کیے۔
– IFJ نے پاکستان کے میڈیا مالکان پر دباؤ ڈالا کہ کارکنوں کو ان کا قانونی ویج ایوارڈ دیا جائے۔
– PFUJ + APNEC نے آٹھویں ویج بورڈ کے قیام کا مطالبہ کیا۔
2011 منہاج برنا کا انتقال۔ (برنا APNEC کے بانیوں اور طویل عرصے کے کارکن رہنما تھے)
2012 PFUJ اور APNEC نے 7ویں ویج بورڈ ایوارڈ پر سخت احتجاج کیا، اور وفاقی حکومت کی طرف سے APNS کو جاری کیے گئے 300 ملین روپے کے چیک پر تنقید کی۔
2018 – وفاقی حکومت نے آٹھویں ویج بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا، PFUJ کی “Tehreek-e-Haqooq Media Workers” مہم کے بعد۔
– میڈیا کارکنوں نے ملک بھر میں ریلیاں نکالیں، خاص طور پر غیر ادائیگی اور کٹوتیوں کے خلاف — اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے جن کی قیادت PFUJ اور APNEC نے کی۔
2019 HRCP (انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ APNEC اور دیگر میڈیا ورکرز کی نمائندہ تنظیموں نے صحافی-مزدور ایکشن کمیٹی بنائی، اور تنخواہ کٹوتی، نوکروں کے چھوڑے جانے اور واجبات کے مطالبات کے لیے مظاہرے کیے۔
2023 فیڈرل سیکرٹری اطلاعات نے اعلان کیا کہ میڈیا کارکنوں کے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کیے جائیں گے؛ 2023–24 کے وفاقی بجٹ میں میڈیا ورکرز کے لیے صحت انشورنس کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
2025 صحافیوں اور میڈیا ورکروں نے PECA (Prevention of Electronic Crimes Act) میں مجوزہ ترامیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا۔ PFUJ، APNEC اور دیگر میڈیا تنظیموں نے مشترکہ ایکشن کمیٹی کے تحت “بلیک ڈے” منایا اور کئی شہروں میں مظاہرے کیے۔
تشخیص اور تبصرہ
اس ٹائم لائن سے واضح ہوتا ہے کہ APNEC نے وقت کے ساتھ جدوجُہد کے مختلف مراحل طے کیے ہیں: ابتدا میں صرف پرنٹ میڈیا ورکرز کی نمائندگی، پھر الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل کارکنوں کی شمولیت۔
ویج بورڈ ایوارڈز ہمیشہ APNEC کی مرکزی ترجیح رہے ہیں — 7ویں اور 8ویں ایوارڈ خاص طور پر تنازعات کے محور رہے۔
APNEC کی جدوجُہد اکثر PFUJ (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس) کے ساتھ مل کر کی گئی ہے، جو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے مشترکہ محاذ بناتا ہے۔
جدید دور میں، APNEC نہ صرف اقتصادی حقوق بلکہ قانونی اور پالیسی سطح پر بھی سرگرم ہے، جیسا کہ PECA کے خلاف احتجاج اور میڈیا ورکرز کے لیے سماجی تحفظ (انشورنس) کی مہم سے ظاہر ہوتا ہے۔