اسلام آباد: نظریہ پاکستان کونسل کے زیرِ اہتمام ایوانِ قائد میں یومِ اقبال کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت سینیٹر ولید اقبال نے کی۔ تقریب کا موضوع “عصرِ حاضر میں فکرِ اقبال کی اہمیت” تھا، جس میں ممتاز ادبا، ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور فکشن نگاروں نے شرکت کی۔
سینیٹر ولید اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال بنیادی طور پر استاد اور مفکر تھے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے جدید فکر و فلسفہ کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اقبال کی شاعری کا اصل مفہوم کیا ہے اور وہ دراصل انسانیت، خودی اور جدتِ فکر کا پیغام دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، اور ان کے کلام پر غور کرنے سے ان کی فکری و روحانی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ “ہمیں نئی نسل کو اقبال کی شاعری کی حقیقی روح سے روشناس کرانا ہوگا تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کر سکیں۔”
تقریب کے مہمانِ خصوصی محمد حفیظ خان نے کہا کہ اقبال کی فکری گہرائی کو سمجھنے کے لیے ان کے خطبات اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتب “اپنا گریبان چاک” اور “زندہ رود” کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اقبال کو وفات کے بعد ان ہی طبقات نے ہائی جیک کر لیا جن کے وہ زندگی بھر ناقد رہے۔”
معروف فکشن نگار ڈاکٹر عبدالوحید رانا نے کہا کہ اقبال دراصل ایک ترقی پسند شاعر تھے جنہوں نے مذہب کو عوامی شعور بیدار کرنے کے استعارے کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اقبال نے فرسودہ نظام اور قدامت پسند سوچ کے خلاف آواز اٹھائی، وہ نئے جہان کی تعمیر کے خواہاں تھے۔”
این پی سی کے چیئرمین میاں محمد جاوید نے کہا کہ “اقبال کو اللہ تعالیٰ نے اسلامی نشاۃِ ثانیہ کے لیے پیدا کیا۔ تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان، فکرِ اقبال کے عملی ثمرات ہیں۔”
سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا کہ اقبال کی شاعری بالخصوص نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ “ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبال کے پیغام کو آسان اور مؤثر انداز میں آج کی نسل تک پہنچایا جائے۔”
ڈاکٹر سبین یونس نے کہا کہ اقبال کی شاعری قرآن و سنت کی عملی تفہیم ہے اور عہدِ حاضر میں ان کی فکر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ڈاکٹر طیبہ صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب کے آغاز میں فرخندہ شمیم نے علامہ اقبال کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آخر میں مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔
اختتام پر سینیٹر ولید اقبال کو اقبال گیلری کا دورہ کرایا گیا، جہاں مرحوم مصور اسلم کمال کے بنائے گئے منتخب کلامِ اقبال کے سکیچز اور خطاطی کے نادر نمونے پیش کیے گئے۔