انگلینڈ (سی این این اردو – ویب ڈیسک )نئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے اکتوبر 2025 کے درمیان انگلینڈ اور ویلز میں مجموعی طور پر 91 قیدی غلطی سے رہا کر دیے گئے۔
وزارتِ انصاف نے یہ ڈیٹا جاری کیا ہے، جبکہ حالیہ ہفتوں میں کئی ہائی پروفائل غلط رہائی کے واقعات کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق، وزیرِ انصاف ڈیوڈ لامی نے پارلیمان میں کہا کہ یہ اعداد و شمار “ایک ایسے جیل نظام کی علامت ہیں جو شدید دباؤ میں ہے”، اور موجودہ حکومت نے یہ بحران سابقہ حکومت سے ورثے میں حاصل کیا ہے۔
تاہم اپوزیشن کے رکن رابرٹ جینرک نے کہا کہ “قیدیوں کی جلد رہائی کے متنازع منصوبے” نے اس انتشار کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے غلطیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2025 تک ایک سال میں 262 قیدی غلطی سے رہا کیے گئے — جو پچھلے سال کے 115 کے مقابلے میں 128 فیصد اضافہ ہے۔
وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ تازہ ترین رپورٹ سات ماہ (یکم اپریل تا 31 اکتوبر) پر مبنی ہے اور اس میں وہ تمام کیس شامل ہیں جن میں قیدی کو غیر ارادی طور پر رہا کیا گیا ہو۔
محکمے کے مطابق، یہ اعداد و شمار سالانہ رپورٹ سے براہِ راست موازنہ کے قابل نہیں، کیونکہ بعض معاملات میں تاخیر سے اندراج یا موسمی اثرات ہو سکتے ہیں۔
پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے ڈیوڈ لامی نے کہا:
“یہ اعداد و شمار واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارا جیل نظام کس قدر دباؤ میں ہے، اور ہمیں ان غلطیوں میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔”
ان کا کہنا تھا کہ 2010 سے 2017 کے دوران جیل افسران کی تعداد میں ایک چوتھائی کمی ہوئی، جس کے باعث تجربہ کار عملہ کم رہ گیا — “ایسے میں غلطیوں کا ہونا فطری ہے۔”
لامی نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کے نظام میں “بنیادی تبدیلی” کی ضرورت ہے اور وقت کے ساتھ “ٹیکنالوجی ہی اس مسئلے کا حل ثابت ہوگی”۔
انہوں نے حکومت کے اقدامات کی تفصیل بھی دی، جن میں شامل ہیں:
ماضی کی غلط رہائیوں کا ڈیٹا سائنس کے ذریعے تجزیہ کرنے کے لیے ایک ٹیم کی تشکیل۔
چھ ماہ کے لیے 10 ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ، تاکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے نئے نظام سے انسانی غلطیوں میں کمی لائی جا سکے۔
عدالتوں کے ساتھ فوری رابطے کے لیے ہاٹ لائن کا قیام، تاکہ قیدیوں کی رہائی سے قبل بقیہ وارنٹس کی تصدیق ہو سکے۔
رہائی کے قواعد کو آسان بنا کر یکساں معیار اپنانا۔
یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت نے غلط رہائیوں کی آزادانہ تحقیقات کا اعلان کیا ہے، جس کی رپورٹ آئندہ سال فروری میں متوقع ہے۔
لامی نے تین ایسے قیدیوں کی تفصیلات بھی بتائیں جو اب تک گرفتار نہیں ہو سکے: پہلا قیدی دسمبر 2024 میں پولیس کے سامنے پیش نہ ہونے کے جرم میں قید تھا۔
دوسرا اگست 2024 میں منشیات کے مقدمے میں قید تھا۔ تیسرا جون 2025 میں ایک ڈکیتی کے الزام میں قید تھا۔
ایک غیر ملکی شہری ہے جبکہ دو برطانوی ہیں۔
دوسری جانب رابرٹ جینرک نے لامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ایک مکمل انتشار” کے ذمہ دار ہیں اور “عوام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں”۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کا قبل از وقت رہائی منصوبہ جیلوں میں افراتفری پیدا کر رہا ہے۔ یہ اسکیم اُن قیدیوں کے لیے متعارف کرائی گئی تھی جنہیں جیلوں میں گنجائش کی کمی کے باعث سزا کے 40 فیصد حصے کے بعد رہا کیا جا سکتا ہے، جب کہ عام طور پر یہ حد 50 فیصد ہوتی ہے۔
پچھلے ہفتے لندن کی وانڈزورتھ جیل سے دو قیدی الگ الگ دنوں میں غلطی سے رہا کر دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
اسی طرح ایک ایریٹریائی نژاد مجرم حدوش کیباتو کو بھی پچھلے ماہ غلطی سے رہائی ملی تھی، جو بعد میں ملک بدر کر دیا گیا۔ وہ اس وقت شہریت کے انتظار میں ایک ہوٹل میں رہائش پذیر تھا، جب اس نے ایک 14 سالہ لڑکی سے زیادتی کی، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے۔