اسلام آباد پولیس کا پریس کلب پر حملہ صحافیوں پر تشدد، گالیاں، دھمکیاں، گرفتاریاں اور توڑ پھوڑ

اسلام آباد: جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس کے افسران اور اہلکاروں نے نیشنل پریس کلب پر حملہ کر دیا۔بیسیوں پولیس اہلکار اور افسران پریس کلب میں داخل ہو گئے۔پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پریس کلب میں توڑ پھوڑ کی۔پولیس اہلکاروں صحافیوں کو غلیظ گالیاں دیتے ہوئے 2صحافیوں کو گرفتار کر کے لے گئے۔ تاہم کچھ دیر بعد گرفتار صحافیوں کو پولیس کی حراست سے چھڑا لیا گیا۔

پولیس کی طرف سے پریس کلب پر حملہ کے واقعہ کے بعد صحافیوں کی بڑی تعداد پریس کلب پہنچ گئی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد پریس کلب پہنچ کر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس افضل بٹ اور نیشنل پریس کلب کے قائم مقام صدر احتشام الحق سے ملاقات کر کے واقعہ پر معذرت کی۔ طلال چوہدری نے کہا کہ واقعہ پر انکوائری کی جائے گی۔

فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے عہدے داروں کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کے بعد باہمی مشاورت سے واقعہ کے خلاف احتجاج کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

اسلام آباد پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ جواد بلوچ نے سی این ین اردو کو بتایا کہ واقعہ ایک غلط فہمی ک نتیجے میں وقوع پذیر ہوا ہے۔تاہم اس وقعہ پر ردعمل دینے کے لیے پولیس حکام مشاورت کے بعد موقف جاری کریں گے۔

مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے اسلام آباد پریس کلب پر پولیس حملہ کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا پولیس اہلکاروں کا کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ کرنے کا عمل قابل مذمت ہے، اسلام آباد پریس کلب میں صحافیوں پر پولیس کا تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں، پیپلز پارٹی صحافی برادری کے ساتھ ہے۔

شازیہ مری نے کہا اس قسم کے عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، حملہ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔اسلام آباد پریس کلب پر حملہ کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔پاکستان پیپلز پارٹی صحافی برادری سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتی ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں