اسلام آباد — سعودی عرب کے پاس 78 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ، 917 طیارے اور 840 ٹینک موجود ہیں، اس کے باوجود اس نے پاکستان کے ساتھ “باہمی دفاعی معاہدہ” طے کر کے عالمی اور علاقائی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر جارحیت کی گئی تو اسے دونوں کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ ان کے استقبال کے لیے شاہی فضائیہ کے جنگی طیارے تعینات کیے گئے اور ریاض ایئرپورٹ پر سرخ قالین بچھایا گیا۔ معاہدے پر دستخط کے بعد وزیرِاعظم اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستاویزات اٹھا کر ایک دوسرے کو گلے لگایا اور میڈیا کے سامنے تصاویر بنوائیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق، یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب قطر میں اسرائیلی حملے نے خطے میں ہلچل مچائی۔ چند روز قبل دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا، حالانکہ قطر جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے میں ثالثی کر رہا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قطر مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے، لیکن اس حملے کے دوران امریکہ نے کوئی عملی دفاع فراہم نہیں کیا۔
سعودی عرب بھی امریکہ کے بڑے ہتھیار خریداروں میں شامل ہے اور وہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، مگر اس واقعے نے یہ احساس اجاگر کیا کہ صرف امریکی سکیورٹی پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔
سعودی فوجی طاقت کے اعداد و شمار
گلوبل فائر پاور کے مطابق سعودی عرب کے پاس 4 لاکھ 7 ہزار فوجی ہیں، جن میں 2,57,000 فعال ہیں۔ فضائیہ کے 642 فعال طیارے، 283 لڑاکا اور 81 اٹیک طیارے شامل ہیں، جبکہ زمینی فوج کے پاس 840 ٹینک اور 321 ملٹیپل لانچ راکٹ سسٹمز موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار سعودی عرب کو دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں میں شامل کرتے ہیں۔
حقیقی طاقت اور کمزوریاں
ماہرین کے مطابق سعودی فوج ابھی بھی اقرباپروری کا شکار ہے اور اس کی صلاحیت اس معیار پر نہیں جس کی قیادت خواہاں ہے۔ 2015 میں یمن میں مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی اس کمزوری کی مثال ہے۔ اسرائیل کے مقابلے میں سعودی فوجی طاقت کو کم تر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسرائیل کو امریکہ کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔
پاکستان کے ساتھ معاہدے کی اہمیت
قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر مہران کامراوا کے مطابق سعودی عرب اپنی فوجی حکمت عملی میں تنوع (diversification) لانے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان جیسی جوہری طاقت اس کے لیے فطری انتخاب ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف عملی بلکہ علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے سعودی عرب امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس کے پاس متبادل آپشنز موجود ہیں۔
خطے کے مستقبل پر اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امکان موجود ہے کہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے دیگر ممالک بھی مستقبل میں پاکستان یا دیگر ایشیائی اور یورپی ممالک کے ساتھ اسی نوعیت کے دفاعی معاہدے کریں۔ یہ رجحان خطے میں طاقت کے توازن کو نئی سمت دے سکتا ہے۔