کیا برکس کرنسی ڈالر کی جگہ لے سکے گی؟

عالمی معیشت میں ایک نئے موڑ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کی جانب سے ایک مشترکہ کرنسی متعارف کرانے کی تیاریاں جاری ہیں، جس کا مقصد ڈالر کے غلبے کو کم کرنا اور عالمی مالیاتی نظام میں متبادل فراہم کرنا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ X کے مطابق برکس بلاک اپنے تجارتی لین دین کو ڈالر کے بجائے ممکنہ “برکس کرنسی” میں منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی منڈیوں پر اثر ڈالے گا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے نئی معاشی راہیں بھی کھول سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کرنسی نوٹ کامیابی سے متعارف ہو گیا تو عالمی تجارت میں ڈالر کی اجارہ داری کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہوگا۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کی طویل عرصے سے قائم حیثیت کو فوری طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

عوام اور کاروباری حلقوں میں یہ سوال بڑھتا جا رہا ہے:
کیا برکس کرنسی واقعی ڈالر کی جگہ لے سکے گی، یا یہ صرف عالمی مالیاتی توازن میں ایک جزوی تبدیلی کا باعث بنے گی؟

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں