این ایچ اے نے مری ایکسپریس وے پر بیرون ملک پاکستانیوں کا خیراتی اسپتال مسمار کر دیا

اسلام آباد: مری ایکسپریس وے پر قائم ذیابیطس سینٹراسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ظہیرالدین بابر نےکہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسران نے غیر قانونی طور پر خیراتی اسپتال کو مسمار کر دیا۔ہمارے پاس عدالت کی طرف سے حکم امتناع بھی موجود تھا۔جس میں این ایچ اے کو ایسی کسی کاروائی سے منع کیا گیا تھا۔این ایچ اے کے افسران و اہلکاروں نے 18 سمتمبر کو بھاری مشینری کے ساتھ یہ غیر قانونی کاروائی کی.

انہوں نے کہا بیرون ملک مقیم پاکستانی نے اسپتال کے لیے زمین 2009 میں خرید کر عطیہ کی تھی۔جبکہ این ایچ اے نے بعد ازان اسپتال کی ملکیتی زمین کی ملکیت کا دعوی کر دیا تھا۔جس کے خلاف ہم نے عدالت سے رجوع کیا۔ این ایچ اے نے غیر قانونی طور پر اسپتال کے کچھ حصوں کو مسمار کیا۔اور بعض حصوں میں موجود اسپتال کی مشینری کو بھی قبضہ میں لے لیا۔جس کے نتیجے میں اسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو جاری رکھناناممکن ہو گیا ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد پریس کلب میں ممبر طاہر عباسی، آصف شہزاد و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےچیف ایگزیکٹو آفیسر ذیابیطس سینٹراسلام آباد ظہیرالدین بابر کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے عملے کی کاروائی سے مریضوں اور عملے کو شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑاہے جبکہ کئی مریض علاج سے محروم رہ گئے ہیں، جو کہ انسانی ہمدردی اور طبی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

تمام تر قانونی قواعد و ضوابط کے بعد معرض وجود میں آنے والےذیابیطس سینٹرکیخلاف این ایچ اے کے یکطرفہ آپریشن کے بعد بیرونی دنیا میں پاکستان کیخلاف کیا پیغام گیا ہوگا۔ جبکہ اسپتال کے لیے عطیات فراہم کرنے والے مخیر افراد اور رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے طبی عملہ کو شیدید مایوسی ہوئی ہے۔جس کے نتیجے میں ایک بہترین فلاحی ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ این ایچ اے انتظامیہ کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہااسپتال ذیابیطس سینٹرکیخلاف کاروائی این ایچ اے کابدترین اقدام ہےانہوں نے اعلیٰ عدلیہ، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور انکا مالی نقصان پورا کیا جائے۔

سی این این اردو نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کر کے واقعہ سے متعلق ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم انہوں نے کوئی بھی جواب دینے سے گریز کیا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں