اسلام آباد: نیشنل پریس کلب میں متاثرینِ منگلا ڈیم کی ہنگامی پریس کانفرنس

اسلام آباد : نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں متاثرینِ منگلا ڈیم نے پاسبانِ وطن پاکستان کے زیرِ اہتمام ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر تنظیم کے مرکزی صدر اور سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر، سیکریٹری اطلاعات رخشندہ تسنیم، یوتھ پریزیڈنٹ بختی شاہ، رابطہ سیکریٹری حسنہ خٹک، وومن ونگ کوآرڈینیٹر شازیہ کیانی، صدر پبلک ایڈ کمیٹی طاہر محمود، نائب صدر رانا اشتیاق اور دیگر رہنما موجود تھے۔

محمد طاہر کھوکھر نے کہا کہ منگلا ڈیم پاکستان کی ترقی اور توانائی کی ضروریات کے لیے بنایا گیا، لیکن اس کے لیے ہزاروں کشمیریوں نے اپنے گھر، زمینیں اور آبا و اجداد کی قبریں قربان کیں۔ افسوس کہ آج وہی لوگ انصاف، شناخت اور سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مسائل حل کرنے میں ناکام رہیں، اس لیے یہ جماعتیں پہلے متاثرین کے مسائل حل کریں پھر سیاست کریں۔

متاثرین نے بتایا کہ آزاد کشمیر حکومت نے انہیں زمینوں کے الاٹمنٹ کے وعدے کیے مگر بیشتر کو مکمل قبضہ نہیں ملا، صرف 8 سے 10 ایکڑ زمین دی گئی جبکہ باقی پر مقامی افراد یا سرکاری ادارے قابض ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلدیہ خوشاب نے 32 ایکڑ زمین پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے جسے فوری واپس دلوایا جائے۔

طاہر کھوکھر نے کہا کہ متاثرین سے کیے گئے معاہدوں پر عمل نہیں ہوا، انہیں آزاد کشمیر کی طرح سہولیات اور سستی بجلی نہیں دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں متاثرین کے لیے ایک نشست مختص کی جائے تاکہ ان کی آواز پارلیمان تک پہنچے۔

متاثرین نے مزید کہا کہ ان کے بچے تعلیم، صحت اور روزگار سے محروم ہیں جبکہ ووٹر لسٹوں میں بھی ان کے نام شامل نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ انتخابات سے قبل متاثرین کو ووٹر فہرستوں میں شامل کیا جائے۔

شرکاء نے کہا: ’’ہم نے ملک کو روشن کیا مگر بدلے میں تاریکی ملی۔ ہمارے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، زمینیں واپس دلائی جائیں اور بجلی سستی فراہم کی جائے۔‘‘

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں