اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما عبدلقادر مندوخیل نے کہا ہے کہ PTDC کا ایم ڈی افتاب رانا غیر قانونی طور عہدے پر براجمان ہے۔ جس نے بورڈ رکن کی حیثیت سے خود کو ایم ڈیم بنایا۔اور بعد ازاں ملک بھر میں PTDC کے ہوٹیلز، موٹیلز اور دیگر جائدادوں کو غیر قانونی طریقے سے فروخت کر دیا۔پی ٹی ڈی سی کے غیر قانونی سربراہ نے اپنے ہی ادارے کے ملازمین کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ہم نے PTDC کے سربراہ کو ملازمین کی بحالی کے لیے کمیٹی میں طلب کیا اور ملازمین کی بحالی کے احکامات دیئے ۔تاہم ایم ڈی PTDC کی طرف سے غیر قانونی املاک کی فروخت کو واپس کیا جائے گا۔جس کے لیے پیپلز پارٹی سینٹ اور قومی اسمبلی میں ضروری کاروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کے سابق سربراہ عبداقادر مندوخیل نے سوموار کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔انہوں نے کمیٹی کی کی 9 ماہ کی کارکردگی کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کہ اس کمیٹی کی کاروائیوں کے دوران کسی بھی جماعت کی طرف سے ایک بھی اختلافی نوٹ نہیں آیا۔30اگست دو ہزار بائیس کو تمام پارٹیوں کے ممبران پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔ کنٹریکٹ ڈیلی ویجز کے تمام ملازمین کے لیے کمیٹی احکامات کر سکتی ہے۔ جس کے تحت ہم نے 72 وفاقی اداروں کے ساتھ کیمٹی کے 31 اجلاس منعقد کیے۔کمیٹی کے اختیارات تھے کہ وہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کو شو کاز جاری کر سکتی تھی۔
انہوں نے کہا اسلام آباد کے سکولوں میں ڈیلی ویجز پر خواتین اساتذہ کو 20 ہزار ماہانہ تنخواہ ادا کی جا رہی تھی جس کو ہم نے 37000 کرنے کے احکامات دیے۔کوئی ملازم ڈیوٹی کے دوران فوت ہوتا ہم نے اسکو بقایاجات اور لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔انہوں نے کہا مختلف اداروں میں ملازمین کی بحالی کے لیے اداروں کی طرف سے مزاحمتی کردار بھی ادا کیا گیا۔کمیٹی نے کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا۔یوٹیلیٹی اسٹورز میں ایک شخص کو سو روپے کی کرپشن کے الزام پر نوکری سے برطرف کیا گیا تھا ۔جس کے خلاف ثبوت نہ ہونے پر بحالی کا حکم دیا۔ وفاقی محتسب میں ملازمین کی ترقی پسند و ناپسند پر کی جاتی ہیں۔وفاقی محتسب کے نمائندے عدالت میں بھی غلط رپورٹ پیش کرتے ہیں۔اور غیر قانونی ترقیوں اور تعیناتیوں کے خلاف عدالتی کاروائی میں سابق ججوں کو بطور وکیل پیش کر کے ہراساں کرتے ہیں۔ کسی عدالت کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ قومی اسمبلی کمیٹی کی رولنگ کو ختم کر سکیں۔
مندوخیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان تمام سرکاری ملازمین کی بحالی کے لیے اسمبلی میں قرارداد پیش کرے گی۔پیپلز پارٹی ہمیشہ لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔لوگوں کو روزگار فراہم کرنے پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس کا خمیازہ بھگتاہے۔ اور ہمارے لیڈر جیل گئے ہیں۔پیپلز پارٹی اب بھی لوگوں کو روزگار فراہم کرے گی۔متاثرہ ملازمیں کی بحالی کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات پر اس وقت کے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا تھا کہ جو پارلمینٹ کی کمیٹی کے احکامات پر عمل نہیں کرے گا اس کو توہین پارلیمان کا نوٹس دیا جائے گا ۔اور ہماری ملازمین کے حقوق کے لیے لڑی گئی جنگ کے کا صلہ یہ ہے کہ مجھے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود الیکشن ہروایا گیا۔میرے مقابلے میں ایک ہارے ہوئے تین ہزار ووٹ لینے والے کو جتوا کر اسمبلی میں پہنچایا گیا۔جو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے انکو چاہیے کہ وہ آج پارلیمانی کمیٹی کے احکامات پر عمل کروا کر پارلیمنٹ کی توقیر کروائیں