اسلام آباد: پاکستان میں پہلی بار (ایچ پی وی) بچہ دانی کے اگلے حصے کے کینسر سے بچاو کے لیے ویکسینیشن مہم شروع ہونے جارہی ہے۔مہم سے متعلق منگل کے روز اسلام آباد میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ آگاہی سیمینار وزارتِ قومی صحت، اور فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے تحت صوبائی ای پی آئی پروگرامز، عالمی ادارۂ صحت، یونیسف، Jhpiego اور Gavi کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔
اس موقع پر ماہرین نے کہا بچیوں کو بچہ دانی کے اگلے حصے کے کینسر سے بچاو کے لیے ویکسین کی سہولت فراہم کرنا پاکستان میں خواتین کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم ہے۔جس کے تحت پہلی بار (HPV) ویکسینیشن مہم 15 ستمبر سے 27 ستمبر 2025 تک منعقد کی جا رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد 9 سے 14 سال کی بچیوں کو بروقت ویکسینیشن کے ذریعے سروائیکل کینسر جیسے مہلک مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔

اس موقع پر Jhpiego کے سربراہ ڈاکٹر مورگین نے خطاب کرتے ہوئے بتایا Jhpiego ایک بین القوامی ادارہ ہے جو عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر افریقہ اور ایشیا کے 35 ممالک میں بچہ دانی کے اگلے حصے کے کینسر سے بچاو کی ویکسین سے متعلق تیکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا ہم پاکستان میں HPV مہم کے لیے طبی عملہ کو تربیت فراہم کر رہے ہیں۔جب کہ عوام کے لیے اس عمل سے متعلق آگاہی ویڈیو بھی متعارف کرائی ہے، جو عام فہم، سادہ، اور مؤثر انداز میں عوام تک زندگی بچانے والی معلومات پہنچانے کی ایک انقلابی کاوش ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایچ پی وی وائرس کیسے پھیلتا ہے، ویکسین کیوں ضروری ہے، اور یہ ویکسین آئندہ نسلوں کوبچہ دانی کے اگلے حصے کے کینسر (سروائیکل کینسر) جیسے مہلک مرض سے کیسے محفوظ رکھ سکتی ہے۔یہ کینسر ایک خاموش خطرہ ہے۔
اسلام آباد ضلعی انتظامیہ میں محکمہ صحت کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ ، سی ڈی اے کے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ارشاد جوکھیو ، عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے ماہرین صحت نے شرکا کو بتایا کہ پاکستان میں بچہ دانی کے اگلے حصے کا کینسر (سروائیکل کینسر)خواتین میں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال ہزاروں خواتین اس مرض کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، جبکہ بروقت اقدامات سے اس مرض کی روک تھام ممکن ہے۔ ماہرین نے کہا کہ 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ایچ پی وی ویکسین لگوانا سب سے مؤثر طریقہ ہے جس سے ان کے لیے مستقبل میں اس مہلک بیماری کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔

ماہرین صحت نے کہا کہ والدین بلا جھجک اپنی بچیوں کو ایچ پی وی ویکسین لگوائیں تاکہ انہیں مستقبل میں سروائیکل کینسر جیسے خطرناک مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔”اس مہم کے دوران ملک بھر میں لاکھوں بچیوں کو ویکسین لگائی جائے گی، جبکہ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے والدین کو سروائیکل کینسر کی روک تھام اور ویکسینیشن کی اہمیت کے بارے میں مؤثر معلومات فراہم کی جائیں گی۔اگر آج ہم اپنی بچیوں کی حفاظت کرتے ہیں تو کل انہیں ایک صحت مند مستقبل دے سکتے ہیں۔ مل کر کوشش کریں کہ سروائیکل کینسر پاکستان کی خواتین کے لیے ایک ماضی کا قصہ بن جائے۔”