بارشوں سے تباہی، ملک بھر میں ہلاکتیں 200 کے قریب، امدادی کارروائیاں جاری

ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے تاہم بارشوں سے متعلقہ واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 200 کے قریب پہنچ گئی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک سب سے زیادہ اموات پنجاب میں 114، خیبر پختونخوا میں 40، سندھ میں 21، بلوچستان میں 16 جبکہ اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں ایک، ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

پنجاب کے ضلع میانوالی کے علاقے کاچھا روکھڑی میں سیلابی پانی میں پھنسے چار خصوصی افراد کو ریسکیو کیا گیا جبکہ 18 دیگر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چکوال کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ سڑکوں کی صفائی کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور بھاری مشینری موقع پر موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نکاسی آب مکمل ہونے تک فیلڈ میں موجود رہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے ملک بھر میں تقریباً 700 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں راشن، کمبل اور خیمے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

ہفتہ اور اتوار کے لیے جاری موسمیاتی جائزے میں سندھ، مشرقی بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں مزید گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مون سون کا موسم جنوبی ایشیا میں سالانہ بارشوں کا 70 سے 80 فیصد حصہ لاتا ہے جو پاکستان میں جون کے آخر میں شروع ہو کر ستمبر تک جاری رہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کی بارشیں زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب یہ بارشیں تباہ کن شکل اختیار کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ 2022 میں ریکارڈ مون سون بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ نے پاکستان کے ایک تہائی حصے کو زیرِ آب کر دیا تھا، جس میں 1,700 سے زائد افراد ہلاک اور 80 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو گئے تھے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں