پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات، باہمی تعاون اور 5 ارب ڈالر تجارتی ہدف پر اتفاق

پاکستان اور ترکیہ کا دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم

اسلام آباد، 9 جولائی (سی این این اردو -اے پی پی): پاکستان اور ترکیہ نے بدھ کے روز دفاع، تجارت، توانائی، ثقافت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سمیت کلیدی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، اور باہمی تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عہد کی تجدید کی ہے۔

ترک وزیر خارجہ حقان فدان اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہائی لیول اسٹریٹیجک کوآپریشن کونسل (HLSCC) کے تحت قائم 12 مشترکہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی پیش رفت قابل اطمینان ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں سال فروری میں اسلام آباد میں منعقدہ HLSCC اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے ایک مشترکہ کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کی سربراہی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کریں گے تاکہ 12 اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان تمام کمیٹیوں کے اجلاس یا تو ہو چکے ہیں یا آنے والے ہفتوں میں ہونے والے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کا اجلاس بھی جلد متوقع ہے، جس کی مشترکہ صدارت ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشار گلر اور پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان کریں گے۔ یہ کمیشن دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسحاق ڈار نے ترکیہ کی دفاعی صنعت میں انڈیجینائزیشن کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تجربے سے فائدہ اٹھانے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ترکیی کمپنیوں کے لیے خصوصی اقتصادی زون کے قیام پر کام جاری ہے، جب کہ اسلام آباد-تہران-استنبول ریلوے راہداری کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے متعلقہ وفود جلد ایک روڈ میپ کو حتمی شکل دیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مظفرآباد میں معارف اسکول کے قیام کے لیے زمین الاٹ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، جناح میڈیکل کمپلیکس، دانش یونیورسٹی، آف شور ڈرلنگ آپریشنز، اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکیی کمپنیوں کی شمولیت جیسے اہم منصوبے زیر غور ہیں۔ پاکستان ترکیہ کی مہارت سے شپ بریکنگ اور آبی وسائل کے انتظام میں بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے شعبے میں صلاحیت بڑھانے پر بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کیا جا رہا ہے، جو آئندہ سال ترکیہ میں منعقد ہونے والے 8ویں HLSCC اجلاس کی راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے ترکیہ کو ایک “بااعتماد دوست اور مخلص برادر ملک” قرار دیتے ہوئے ترکیی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم توانائی، معدنیات، تعلیم، اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا کر باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔”

انہوں نے ہوائی، سمندری، زمینی اور ریلوے رابطوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں تکنیکی سرگرمیاں جاری ہیں۔

علاقائی امور پر بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ضبط و تحمل کی تعریف کی اور ترکیہ کی جانب سے امن و مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “عالمی برادری نے کشیدگی کے دوران پاکستان کے حکیمانہ اور پرامن رویے کو سراہا۔”

حقان فدان نے غزہ اور ایران پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ترکیہ غزہ میں مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں