اسلام آباد:پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ ان کا مقصد پورے عالم اسلام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ یہ حملے ایران کی جانب سے فلسطین اور غزہ میں اسرائیلی بربریت کے خلاف واضح مؤقف اپنانے کی سزا ہیں۔
وہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ:
“صہیونی ریاست دراصل خطے میں امریکی اڈے کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ خود این پی ٹی (معاہدہ برائے ایٹمی عدم پھیلاؤ) کا رکن نہیں، مگر ایران جیسے رکن ملک پر پرامن ایٹمی پروگرام کی بنیاد پر حملہ کیا گیا۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) پندرہ مرتبہ ہمارے ایٹمی پروگرام کو پرامن قرار دے چکی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
“ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ دراصل ایک وسیع تر جنگ کا آغاز ہے، جس کا مقصد پورے خطے اور مسلم دنیا کو لپیٹ میں لینا ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ صرف ایران کی جنگ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے خلاف ایک سازش ہے۔”
ٹرمپ کا نوبل انعام؟ باعثِ حیرت ہے!
رضا امیری مقدم نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ نوبل انعام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
“ایسا شخص جو دو ریاستی حل کی مخالفت اور صہیونی حکومت کی کھلم کھلا حمایت کرتا ہو، نوبل انعام کا حقدار کیسے ہو سکتا ہے؟ ٹرمپ نے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق پر سودے بازی کی، اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائیں۔”
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صہیونی ریاست نے غزہ میں 60 ہزار بچوں کو شہید کیا اور مقامی آبادی کو جبراً علاقے چھوڑنے پر مجبور کیا۔
ایرانی ردعمل اور میزائل حملے
ایرانی سفیر نے بتایا کہ ایران نے حملے کے جواب میں خود تیار کردہ میزائلوں سے مؤثر کارروائی کی، جس کا صہیونی ریاست صرف دس دن تک مقابلہ کر سکی۔
“ہمارے کمانڈر اور سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا گیا، جس پر ایران نے بھرپور جواب دیا۔ ہم اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو ہر حال میں جاری رکھیں گے۔”
پاکستان اور امت مسلمہ کی حمایت قابلِ تحسین
رضا امیری مقدم نے پاکستانی حکومت، سیاسی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:
“پاکستان نے ابتدا ہی میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کی حمایت کا اعادہ کیا، جو ہمارے لیے نہایت حوصلہ افزا ہے۔”
جنگ کا دائرہ اور ممکنہ ردعمل
ایرانی سفیر نے خبردار کیا کہ ایران عالمی قوانین کے تحت جواب دے گا اور امریکی مفادات کو وہاں نشانہ بنایا جائے گا جہاں انہیں سب سے زیادہ تکلیف ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت اور افواج طویل مدتی جنگ کے لیے تیار ہیں اور اب تک کسی ملک سے ہتھیاروں کی فراہمی کی درخواست نہیں کی گئی۔ تاہم، ایران کے ایٹمی کمیشن نے امریکی حملوں کے بعد صورتحال کی مکمل جانچ شروع کر دی ہے تاکہ عوام کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
جاسوسی کا انکشاف
پریس کانفرنس کے اختتام پر ایرانی سفیر نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایران میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار افراد کے قبضے سے ڈرون اور دیگر ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، جن میں بعض ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔