جون 2024 میں ایران کے ایک سرکاری دورے کا موقع ملا، جہاں ایرانی حکومت نے ہمیں اپنے دفاعی نظام کے اہم مراکز کا مشاہدہ کرایا۔ ان مقامات پر ایرانی ساختہ میزائل، ڈرونز، راکٹ لانچرز، ریڈار سسٹمز اور خود تیار کردہ ہیلی کاپٹرز دیکھنے کو ملے۔ یہ دورہ اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ ایران نے عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے دفاع کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ اس پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی۔
آج، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایرانی دفاعی صلاحیت واضح برتری حاصل کر چکی ہے۔ ایران نے نہ صرف اپنی خود انحصاری کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ اس کا دفاع مضبوط اور قابل اعتماد ہاتھوں میں ہے۔
یہ طاقت اور استقامت محض ایک دن میں حاصل نہیں ہوئی — اس کے پیچھے سالوں کی محنت، مسلسل مزاحمت اور بے شمار قربانیاں ہیں۔ ان قربانیوں میں ان عظیم شہداء کا مقدس خون بھی شامل ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔