صدر شی جن پنگ کا چین–وسطی ایشیا سربراہی اجلاس سے خطاب، انصاف، باہمی تعاون پر زور

بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے دوسرے چین–وسطی ایشیا سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن و ترقی کے لیے انصاف، مساوات، اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

صدر شی نے کہا:”انصاف اور باہمی فائدے پر پختہ یقین اور دو طرفہ تعاون ہی دنیا میں پائیدار امن اور مشترکہ ترقی کا واحد راستہ ہے۔”

انہوں نے اقتصادی تنہائی، تجارتی جنگوں اور یکطرفہ پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “ٹیرف اور تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ تحفظ پسندی، یکطرفہ فیصلے اور بالادستی کی سیاست بالآخر خود نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔”

صدر شی جن پنگ نے وسطی ایشیائی ممالک کی عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چین ان کے ساتھ مل کر بین الاقوامی انصاف کا دفاع کرنے، طاقت کی سیاست اور بالادستی کی مخالفت کرنے، اور ایک منصفانہ و منظم کثیر القطبی دنیا کے قیام کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین ایک ایسی جامع اور فائدہ مند عالمی معیشت کے حق میں ہے جو تمام اقوام کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے۔

یہ اجلاس چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلقات کے تناظر میں منعقد ہوا، جس میں عالمی تبدیلیوں کے پیش نظر باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں