تل ابیب —اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ ایران کے خلاف اچانک اور مؤثر فوجی کارروائی نے ان کی سیاسی مشکلات کو لمحوں میں ختم کر دیا ہے۔
چند دن قبل تک نیتن یاہو کی حکومت اعتماد کے ووٹ کا سامنا کر رہی تھی، اور بعض اتحادی مذہبی جماعتیں فوجی بھرتی کے معاملے پر مخالفت کی دھمکیاں دے رہی تھیں۔ لیکن نیتن یاہو نے یہ ووٹ آسانی سے جیت لیا، اور اگلے ہی دن اسرائیل نے ایران پر “آپریشن رائزنگ لائن” کے نام سے حملہ شروع کر دیا۔
یہ کارروائی سیاسی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ گئی۔ نہ صرف اتحادی جماعتوں کی شکایات ختم ہو گئیں، بلکہ عدالتی اصلاحات اور غزہ جنگ کے خلاف ہونے والے ہفتہ وار مظاہرے بھی سیکیورٹی احکامات کے تحت بند ہو گئے۔ نیتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات کی عدالتی کارروائی بھی فی الحال معطل کر دی گئی ہے، اور غزہ میں 600 دن سے زائد عرصے سے قید یرغمالیوں کی خبریں بھی شہ سرخیوں سے غائب ہو چکی ہیں۔