ویب ڈیسک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں جاری G7 اجلاس کے دوران اچانک اعلان کیا کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایک دن پہلے ہی واشنگٹن واپس جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس بحران کو فوری نوعیت کا قرار دیتے ہوئے تہران کے شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایت بھی جاری کی۔
کینیڈین راکیز کے علاقے کاناناسکس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،
“مجھے جلد از جلد واپس جانا ہے۔”
وائٹ ہاؤس کے مطابق، ان کی واپسی مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا:
“تمام افراد فوراً تہران سے انخلاء کر لیں!”
اس تنبیہ کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے تاکہ وہ فوری مذاکرات پر آمادہ ہو۔ ٹرمپ نے اپنے مشرق وسطیٰ ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی حکام سے فوری ملاقات کی کوشش کریں۔
G7 اجلاس کے دوران یورپی رہنماؤں سے ملاقات میں ٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات زیر غور ہیں، اور امریکی حکام اس ہفتے ایرانی ہم منصبوں سے مذاکرات کی کوشش کریں گے۔
ابتداء میں ٹرمپ نے G7 کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط سے گریز کیا، تاہم بعد میں ترمیم شدہ اعلامیہ پر دستخط کر دیے گئے۔ اعلامیہ میں کہا گیا:
“ہم مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہیں۔ ایران علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کا اہم ذریعہ ہے، اور ہم واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان الیکس فائفر نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کیا:
“امریکی افواج دفاعی پوزیشن میں ہیں اور اگر امریکی مفادات کو خطرہ ہوا تو ہم جواب دیں گے۔”
صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ صورتحال پر غور کے لیے وہائٹ ہاؤس کی سچوئیشن روم میں اجلاس تیار رکھیں۔