ویب ڈیسک :پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں بے پناہ ترقی کی گنجائش موجود ہے، جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک کو خصوصی آئی ٹی مہارتوں اور بین الاقوامی سطح پر برانڈنگ پر توجہ دینی ہوگی۔ یہ بات ثا قب احمد، کنٹری منیجنگ ڈائریکٹر SAP پاکستان، افغانستان، عراق اور بحرین نے پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی کے مکمل امکانات کو کھولنے کے لیے ضروری ہے کہ اس شعبے کو بین الاقوامی سطح پر برانڈ کیا جائے، منافع کی آسان منتقلی ممکن بنائی جائے، ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین کو وسعت دی جائے، اور جدت کو فروغ دیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور عالمی مسابقت میں بہتری آئے۔
“تاہم مقامی اور بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیاں اور فری لانسرز حکومتی تعاون کی کمی کا شکار ہیں،” سا قب احمد نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ “بین الاقوامی کمپنیاں فلپائن یا افریقہ منتقل ہونے کا اختیار رکھتی ہیں، اس لیے پاکستانی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پالیسیوں میں تسلسل کی کمی ملک کی ساکھ پر سنگین اثر ڈال سکتی ہے۔”
انہوں نے پاکستان میں آئی ٹی میں تبدیلی اور نجی و سرکاری شعبے میں ڈیجیٹل حل اپنانے کے بڑھتے رجحان کو سراہا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف اعداد و شمار کو ہدف بنانا کافی نہیں۔
“ہمیں مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سمیت آئی ٹی میں ترقی کی طرف بڑھنا ہوگا،” انہوں نے کہا۔
SAP کے کنٹری ہیڈ نے بتایا کہ حکومتی ادارے اب ERP سسٹمز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور AI پر مبنی تجزیاتی نظام سے کارکردگی اور شفافیت بہتر بنا رہے ہیں، لیکن اس تبدیلی کے لیے ایک منظم روڈ میپ اور طویل المدتی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے آئی ٹی سیکٹر کو ترقی دینے کے لیے ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کو اہم قرار دیا، اور بتایا کہ SAP مختلف تربیتی پروگرامز فراہم کرتا ہے، یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت داری کرتا ہے، اور طلبا کو سلکان ویلی میں انٹرن شپ کے ذریعے بین الاقوامی تجربہ فراہم کرتا ہے۔
“ہمیں انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت ہے تاکہ گریجویٹس کو مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق مہارتیں دی جا سکیں،” انہوں نے کہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ AI، بلاک چین اور IoT جیسی ابھرتی ٹیکنالوجیز عالمی منڈیوں کی صورت گری کر رہی ہیں۔
سا قب احمد نے حکومت اور عوامی شعبے میں آئی ٹی اور ITeS حلوں کے نفاذ میں درپیش چیلنجز کا ذکر بھی کیا، جن میں تبدیلی کی مزاحمت، پرانا انفرااسٹرکچر، اور تربیت یافتہ آئی ٹی ماہرین کی کمی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ڈیجیٹل خواندگی پر سرمایہ کاری، ریگولیٹری فریم ورک کی بہتری، اور مضبوط پبلک-پرائیویٹ شراکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔