A Chinese J-35 stealth fighter jet in flight against a blue sky, symbolizing Pakistan's new defense partnership with China.

پاکستان کا جے-35 لڑاکا طیاروں کا معاہدہ: چینی دفاعی کمپنیوں کے حصص میں اضافہ،

ویب ڈیسک : چین سے جدید جے-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے خریدنے کے پاکستان کے فیصلے نے نہ صرف مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ چینی دفاعی کمپنیوں کے حصص میں بھی زبردست اضافہ کر دیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق کی، جس کے بعد پیر کو شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں AVIC شینیانگ ایئرکرافٹ کمپنی کے حصص 10 فیصد کی روزانہ حد تک بڑھ گئے۔ بلومبرگ کے مطابق، دیگر دفاعی کمپنیوں جیسے نانہو ایرو اسپیس الیکٹرانک انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے شیئرز میں بھی 15 فیصد تک اضافہ ہوا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب پاکستانی پائلٹس پہلے ہی چین میں ان طیاروں کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

جے-35اے چین کا دوسرا پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہے، جسے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے۔ اس میں اسٹیلتھ صلاحیت، جدید AESA ریڈار، اور الیکٹرو آپٹیکل سینسرز شامل ہیں جو دشمن کے طیاروں کو جلد شناخت کرنے اور درست نشانہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طیارے کا ڈیزائن ریڈار پر نظر آنے کے امکانات کو انتہائی کم کر دیتا ہے، جس سے پاکستان کو جدید فضائی جنگ میں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

جے-35اے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے PL-15 اور PL-17 فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل نصب کیے جا سکتے ہیں، جو اسے “بیانڈ ویژوئل رینج” یعنی نظر سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے میں انتہائی مؤثر بناتے ہیں۔ یہ طیارہ یا تو روسی RD-93 یا چینی WS-19 انجن سے لیس ہو سکتا ہے اور 1,360 میل فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔ تربیت کا عمل جاری ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ان طیاروں کی ترسیل رواں سال اگست سے شروع ہو سکتی ہے۔

ڈیلی ٹائیمز کے مطابق، پاکستان ان جدید جے-35اے طیاروں سے اپنے پرانے ایف-16 اور میراج طیاروں کے بیڑے کو تبدیل کرے گا۔ دفاعی امور کے ماہر برینڈن جے وِکَرٹ کے مطابق، یہ نئے طیارے پاکستان کو بھارت کے فضائی دفاعی نظام کا مؤثر جواب دینے اور طویل فاصلے کی فضائی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت دیں گے، جس سے جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں