Health experts and civil society representatives speak at a joint press conference in Islamabad, demanding higher taxes on sugary drinks and ultra-processed foods to protect public health.

طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کا مطالبہ، میٹھے مشروبات اور پروسیسڈ خوراک پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے

اسلام آباد (5 جون 2025): پاکستان کی ممتاز طبی تنظیموں اور سول سوسائٹی اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحت عامہ کے تحفظ کو اولین ترجیح بناتے ہوئے میٹھے مشروبات، جوسز اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز پر بھاری ٹیکس عائد کرے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم مشاورتی اجلاس میں مقررین نے وزارت قومی صحت کی اس تجویز کی حمایت کی جس کے تحت میٹھے مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) 20 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد اور ٹھوس الٹرا پروسیسڈ فوڈز پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا جانا شامل ہے۔

صحت کا بحران اور فوری اقدامات کی ضرورت
ماہرین نے خبردار کیا کہ پاکستان اس وقت خوراک سے وابستہ غیر متعدی بیماریوں (NCDs) کی سنگین لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس میں ذیابیطس، موٹاپا، قلبی امراض، گردوں کی بیماریاں، اور مخصوص کینسر شامل ہیں۔

’’یہ بیماریاں نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ قومی معیشت پر بھی بوجھ ہیں۔ پالیسی میں تاخیر، علاج کے اخراجات اور پیداواری صلاحیت میں کمی کا سبب بن رہی ہے،‘‘ مقررین نے کہا۔

صنعتی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے حقائق کی وضاحت
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے صنعتی دعووں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے بتایا کہ صرف جوس انڈسٹری ہی 2020 میں 5.7 ارب ڈالر کی مارکیٹ تھی جو 2025 تک 6.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوسز کی قیمتیں اور ٹیکس عالمی معیار کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ ان کی غذائی افادیت بھی مشکوک ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جوس انڈسٹری، پھلوں کے ایک چھوٹے سے حصے کو استعمال کرتی ہے—بعض تخمینوں کے مطابق یہ شرح 2 فیصد سے بھی کم ہے۔

’’یہ صنعت صحت مند پھلوں کو غیر صحت بخش مشروبات میں تبدیل کرکے، گمراہ کن دعووں کے ذریعے فروخت کرتی ہے تاکہ منافع کو تحفظ دیا جا سکے،‘‘ انہوں نے کہا۔

بین الاقوامی مثالیں اور کامیاب تجربات
ماہرین نے میکسیکو، چلی، پیرو، جنوبی افریقہ اور برطانیہ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں میٹھے مشروبات اور جنک فوڈز پر ٹیکس کے نفاذ سے نہ صرف ان کا استعمال کم ہوا بلکہ صحت مند غذائی رویوں کو فروغ ملا۔

ذیابیطس کا بڑھتا ہوا بوجھ
ماہر صحت غلام عباس نے بتایا کہ

’’پاکستان میں صرف ذیابیطس کے علاج پر سالانہ 2.6 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں—یہ رقم آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والی امداد سے دُگنی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذیابیطس کے 30 فیصد کیسز کا تعلق میٹھے مشروبات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ہے۔‘‘

پالیسی سازوں سے اجتماعی اپیل
یہ مطالبات PANAH کی زیرِ قیادت منعقدہ اجلاس میں سامنے آئے جس میں متعدد تنظیموں نے شرکت کی، جن میں ہارٹ فائل، پاکستان یوتھ چینج ایڈوکیٹس، سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، ڈائبٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان، پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹک سوسائٹی، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز، اور کئی صحافی، نوجوان رہنما اور ماہرینِ صحت شامل تھے۔

مقررین نے حکومت سے اپیل کی کہ جمع ہونے والے ٹیکسز کو عوامی صحت کے نظام، غذائی تحفظ اور سماجی بہبود میں استعمال کیا جائے تاکہ غریب طبقے کو صحت مند غذا—جیسے کہ پھل، سبزیاں، دالیں اور کم پروسیسڈ اشیاء—سستے داموں میسر آ سکیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں