حکام کی طرف سے حوصلہ شکنی زلزلہ پیش گوئی نظام کے موجد نے برطانوی ادارے میں شمولیت کا اعلان کر دیا

اسلام آباد: ارتھ کوئیک کوئیک نیوز اینڈریسرچ سنٹر کے سی ای او محمدشہباز لغاری نے کہا ہے کہ صدیوں سے انسان زلزلہ کی درست پیش گوئی کرنے کے لیےکوشاں ہے۔میں نے اپنی ذاتی کاوش سے ایسا نظام ترتیب دیا ہے جس کے تحت زلزلہ سے 128 گھنٹے قبل درست پیش گوئی کرتا آرہا ہوں۔جن میں اندرون ملک کے علاوہ دیگر ممالک میں آنے والے زلزلوں کی درست پیش گوئی شامل ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز لغاری نے کہا کہ اپنی اس کامیابی کو پاکستان کے نام کرنا چاہتا تھا۔مگر مجھے اپنے ملک میں کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے جبکہ بیرون ممالک سے حوصلہ افزائی اور ملکر کام کرنے کی پیش کش آ رہی ہیں،حکومت تعاون کرے تو زلزلوں کی پیشگی اطلاع کاسسٹم بنا سکتا ہوں جس سے پاکستان کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہونے کے علاوہ دنیا میں نام مزید اونچا ہوسکتا ہےاگر حکومت نے تعاون نہ کیا تودوسرے ممالک سے ملکر یہ الات بنانے میں مصروف عمل ہو جائینگے جس سے پاکستان اور قوم اس عظیم اعزاز سے محروم ہو جائے گی

انہوں نے کہا کوئٹہ میں زلزلہ کی میری پیش گوئی پر اسسٹنٹ کمشنر نے حفاظتی اقدام کے طور پر 2 روز کے لیے کانیں بند کروا دیں مگر جاری نوٹیفکیشن میں میرا حوالہ شامل کرنا گوارہ نہیں کیا۔ دوسری طرف قدرتی آفات و موسمیات سے متعلق محکموں کے حکام ابھی تک زلزلہ سے متعلق پیش گوئی کو نا ممکن قرار دے رہے ہیں۔اور جب ان سے میری پیش گوئی کے درست ہونے پر سوال کیا جائے تو جواب میں ہلکے درجے کے زلزلوں کو معمول قرار دیتے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زلزلہ ہلکی شدت کا ہو یا ذیادہ شدت کا اس سے قبل دنیا میں زلزلے کی درست پیش گوئی ممکن نہیں تھی۔انہوں نے کہا میرے کام پر بیرونی دنیا سے ستائش اور تعریف مل رہی ہے، مختلف ممالک کے حکومتی اور نجی اداروں نے ان کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔پاکستانی حکام کی طرف سے مسلسل نظرانداز کرنے کے باعث مجھے مجبورا برطانوی ادارے کی پیش کش قبول کرنی پڑ رہی ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کراچی میں آنے والے حالیہ زلزلوں کو نظر انداز نہ کیا۔کراچی میں جاری ہلکے درجے کے زلزلے شہر کو بڑا زلزلہ نہ ہونے باعث ہیں۔ اگر چھوٹے زلزلے رک گئے تو جمعرات کی رات سے ہفتے کی رات کے دوران زیادہ شدت کے زلزلے آسکتے ہیں جس کی شدت 4.9 ہو سکتی ہے۔جبکہ اس کی گہرائی کم ہونے کے باعث خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں