تحریر :میاں صغیر احمد (جنوبی کوریا )
سب سے پہلے پاکستان . کوریا میں مقیم پاکستانیوں کے لئے لمہ فکریہ ،
مجھے کل گومی میں ایشین اولمپئن شپ دیکھنے کا موقع ملا، جس میں ہمارے ملک کا فخر، ارشد ندیم، نے گولڈ میڈل حاصل کر کے ہمیں خوشی سے ہمکنار کیا۔ یہ لمحہ انتہائی قابلِ فخر تھا۔
اسٹیڈیم میں سینکڑوں پاکستانی، ملک بھر سے اپنے ہیروز کو سپورٹ کرنے کے لیے سبز ہلالی پرچم تھامے موجود تھے۔ ان کی تعداد کسی بھی دوسرے ملک کی کمیونٹی سے زیادہ تھی اور وہ بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ نعرے لگا رہے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کوریا میں پاکستانیوں کو اس طرح اپنے قومی ہیرو کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرنے کا موقع ملا۔ پاکستانیوں کی یہ خوشی دیدنی تھی۔
یہ سب منظر کورین میڈیا کے لیے بھی ایک سرپرائز تھا۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد اور ان کا جذبہ دیکھ کر کورین ٹی وی چینلز نے مثبت رپورٹنگ کی، جو کہ ہمارے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔
لیکن افسوس، اس خوبصورت ماحول کو کچھ لوگوں نے خراب کر دیا۔ جیسے ہی پاکستانی کمیونٹی کے سرپرست اعلیٰ ہمارے بہت قابل احترام بھائی اور افغان شہری حاجی عباس سیاسی پارٹیوں کے پٹکے گلے میں ڈالے، بڑے بڑے جھنڈے تھامے، اسٹیڈیم میں داخل ہوئے اور پاکستانی نعروں کے بجائے سیاسی نعرے لگانے شروع کیے، فضا مکدر ہو گئی۔ اس کے بعد دیگر جماعتوں کے افراد نے بھی اپنے نعرے لگانے شروع کر دیے، اور ماحول مزید خراب ہوتا گیا۔
مجھے اس عمل پر شدید افسوس ہے، اور میں اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ایک ایسا ایونٹ جہاں صرف پاکستان کے لیے نعرے لگنے چاہیے تھے، اسے سیاسی نعروں سے آلودہ کرنا ایک قومی وحدت کے خلاف اقدام تھا، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
دوستوں نے پہلے بھی ان شخصیات کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ بار بار ایسے کام کرتے ہیں، لیکن میں نے سمجھا شاید ذاتی اختلافات ہوں گے، اس لیے میں نے ان باتوں کو نظر انداز کر دیا۔
مگر اب میں نے خود اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہے، اور میں اسے صرف افسوسناک ہی نہیں بلکہ قابلِ مذمت سمجھتا ہوں۔
ایک انٹرنیشنل ایونٹ میں، وہ بھی ارشد ندیم جیسے قومی ہیرو کی جیت کے موقع پر، اس طرح کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے ماحول کو خراب کرنا انتہائی افسوسناک ہے — اور بدقسمتی سے یہ عمل سینئر کمیونٹی لیڈران اور مرکزی عہدیداران کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
میری درخواست ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ اس واقعے کا نوٹس لے اور ان کمیونٹی لیڈروں سے باقاعدہ وضاحت طلب کرے۔ کیونکہ یہی افراد اکثر سفارت خانے کے پروگراموں میں اگلی نشستوں پر موجود ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ وہ خود انتشار کا باعث بنیں — خصوصاً بین الاقوامی ایونٹس میں، جہاں وہ پورے پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔