صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز اور وفاقی وزارت مذہبی امور کے نمائندوں نے الوداع کیا
لاہور، 19 اپریل: پاکستان کے مختلف مقدس مقامات پر روحانی و مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد 5803 بھارتی سکھ یاتری آج واہگہ بارڈر کے راستے اپنے وطن بھارت واپس روانہ ہو گئے۔ یاتریوں کی روانگی کے موقع پر صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز سیف اللہ کھوکھر، وفاقی وزارت مذہبی امور کے نمائندے، اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبران موجود تھے۔
یاتریوں نے اپنی روانگی سے قبل حکومت پاکستان، حکومت پنجاب، متروکہ وقف املاک بورڈ، اور وفاقی وزارت مذہبی امور کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ دہلی گوردوارہ مینیجمنٹ کمیٹی کے جتھہ لیڈر سردار دلجیت سنگھ نے کہا کہ “پاکستان میں انسان اور انسانیت کی بے مثال تعظیم دیکھی، یہاں کے پیار کو بھارتی سرزمین تک لے جانے کی کوشش کریں گے۔”
شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے جتھہ لیڈر سردار رویندر سنگھ نے کہا کہ “پاکستانیوں کی طرف سے جو محبت، مان اور عزت ملی، وہ کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔ پاکستان حقیقت میں اقلیت نواز ملک ہے۔”
اس موقع پر صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ “ہم نے بھرپور کوشش کی کہ مہمانوں کی خدمت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ دعاگو ہیں کہ آپ جلد واپس آئیں اور ہم مل کر محبتیں بانٹیں، تاہم اگلی بار ویزوں کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔”
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز سیف اللہ کھوکھر نے کہا کہ “تمام مراحل ایک مضبوط ٹیم ورک کے ذریعے ادا کیے گئے۔ امید کرتے ہیں کہ ہماری مہمان نوازی توقعات پر پوری اتری ہو گی۔ جہاں کچھ کمی رہ گئی ہو، اسے آئندہ دوروں میں لازمی درست کیا جائے گا۔”
الوداع ہوتے ہوئے دیگر سکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک بار پھر بین المذاہب ہم آہنگی، محبت اور مہمان نوازی کی اعلیٰ مثال قائم کی، جس کو ہمیشہ کی طرح قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔