سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے ذاتی سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں خاتون عاصمہ بلوچ اغواء

راشد حسین بگٹی (اسلام آباد )بلوچستان خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری کے نائب رحیم بخش اور ان کے بھائی ظہورِ جمالزئی کے ہاتھوں خصدار کی رہائشی عاصمہ بلوچ اغواء ۔ عاصمہ بلوچ کے خاندان کے مطابق کل رات 2 بجے کے وقت رحیم بخش اور ان کے ساتھیوں نے عاصمہ بلوچ کو ان کے گھر سے اغواء کیا ۔ اغواء کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے نائب رحیم بخش نے اپنے بھائی کے لیے عاصمہ نواز کا رشتہ مانگا گیا ۔ جب ہماری طرف انکار کیا تو ظہور جمالزئی نے پہلے عاصمہ بلوچ کے منگیتر عبدالسلام کو قتل کیا اور اس کے بعد عاصمہ بلوچ کے خاندان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ کسی طرح رشتے پر رضامند ہو جائے مگر جب عاصمہ بلوچ اور ان کی خاندان کے طرف سے انکار کیا گیا تو کل رات 2 بجے عاصمہ بلوچ کو ان کے گھر اغواء کیا گیا ہے تاحال وہ لاپتہ ہیں ۔ خضدار میں اس وقت دو مختلف مقامات پر عاصمہ بلوچ کی خاندان اور اہلِ علاقے کے طرف دھرنا دیا گیا ہے تاحال انتظامہ اور پولیس کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا

بلوچ یکجہتی کمیٹی خضدار زون کا شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی ریلی کا اعلان

بلوچ یکجہتی کمیٹی خضدار زون اور متاثرہ خاندان کی جانب سے کل خضدار بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ ہم خضدار کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ کے مظالم کے خلاف گھروں سے نکلیں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

گزشتہ رات تقریباً 2 بجے ڈیتھ اسکواڈ کے افراد نے ایک گھر پر حملہ کیا، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور خواتین کو جبری طور پر اغوا کر لیا۔ یہ غیر انسانی ظلم کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

ہم خضدار کی تاجر برادری اور تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظالمانہ واقعے کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کریں، ہڑتال کو کامیاب بنائیں اور ریاستی جبر کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں۔

اس کے علاوہ، کل دوپہر 3 بجے شہید رزاق چوک سے آزادی چوک تک ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ ہم خضدار کے عوام، طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنان اور تمام باشعور افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں اور جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں