ورلڈ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت

جنوبی کوریا : ورلڈ جرنلسٹس فیڈریشن کےنیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے عامل صحافیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور مختلف خبروں کی کوریج پر نوٹس جاری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ فیڈریشن کے مطابق یہ اقدامات آئینِ پاکستان میں دی گئی آزادیٔ اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت پر براہِ راست قدغن کے مترادف ہیں، جو جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔

صحافیوں کو نوٹسز پر تشویش

فیڈریشن کے بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں سینئر صحافیوں بشمول شہزاد پراچہ اور نادار بلوچ سمیت متعدد صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے تحت کی گئی خبروں اور تجزیوں پر نوٹسز موصول ہوئے ہیں۔
فیڈریشن نے ان اقدامات کو آزاد صحافت کو دبانے اور عامل صحافیوں پر دباؤ بڑھانے کی منظم کوشش قرار دیا ہے، جس سے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے اور جمہوری معاشروں کی روح مجروح ہوتی ہے۔

صدر ورلڈ جرنلسٹس فیڈریشن کا مؤقف

ورلڈ جرنلسٹس فیڈریشن کے صدر Jun Hyuk Lee نے اپنے بیان میں کہا کہ نوٹسز کے ذریعے صحافیوں کو دبانے کا رجحان آزادیٔ صحافت کے لیے خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عامل صحافی عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کا آئینی فریضہ انجام دیتے ہیں، اور انہیں ہراساں کرنا دراصل عوام کے حقِ معلومات پر حملہ ہے۔

سیکرٹری جنرل کا مطالبہ

فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل عابد صدیق چوہدری نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے طرزِ عمل کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی پر نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو بھجوائے گئے تمام غیر ضروری نوٹس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور متعلقہ ادارے آزادیٔ صحافت کا مکمل احترام یقینی بنائیں۔

متاثرہ صحافیوں سے یکجہتی

ورلڈ جرنلسٹس فیڈریشن نے متاثرہ صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر اس قسم کے اقدامات کا سلسلہ بند نہ ہوا تو تنظیم ہر آئینی و جمہوری فورم پر آواز بلند کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
فیڈریشن نے اس امر پر زور دیا کہ آزاد، خودمختار اور بے خوف صحافت ہی شفافیت، جوابدہی اور مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں