ہماری ترقی کے نقائص

ترقی لفظ مختلف زاویوں میں لیا جاسکتاہے، یہ فرد واحد کی بھی تمنا ہے اور بڑے بڑے ملکوں/ریاستوں کی بھی،انسان کے کاندھوں پر بچپن سے ایک نا نظر آنے والا بوجھ احساس اور بستہ امیدوں ڈال دیا جاتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کا میلاپ کروانا ہے اس بے رحم دنیا میں اپنا نام بنانا ہے اپنے آپ کو دنیا میں متعارف کروانا ہے کہ آپ کا نام جہاں آئے لوگ رشک کر اٹھیں آپ کی مثالیں دی
جائیں دوسری جانب یہ معاملہ خاندانوں،شہروں،صوبوں سے آگے بڑھتے ہوئے ملکوں اور براظموں تک جا پہنچتا ہے جیسے بادی النظر میں یورپ ترقی یافتہ اور افریقہ پسماندہ یا ترقی پزیر کہلاتا ہے نام مختلف ہیں بات وہی ہے۔

اگر پاکستان کی ترقی کی بات کی جائے تو 1947 کے بعد وجود آگہی پانے کے یکسر بعد ہم نے مصائب جھیلے در در کی ٹھوکریں کھائیں،درد کے ایام سہے،اپنے قائد کو کھویا، قائد کے جان نشین کو سپرد لحد کیا کچھ ترقی کی بھی مگر پیکر وطن دو لخت کر بیٹھے اس کی تفصیل بیان کرنا یہاں مقصود حاضر وقت نہیں ہے، قصد بیان ترقی ہے جس میں جا بجا دراڑیں پڑ چکی ہیں، اکثر ایسا معلوم ہوتا ہے ان کی بھرائی کا کوئی راستہ مستقیم دکھائی نہیں پڑتا جو حقیقتا سچ بھی ہے اگر نقاب دومانی ہٹا کر نگاہ مدہوش کو احساس حقیقت دلوایا جائے کہ نہ ہم دنیا کی عظیم قوم ہیں،نہ عظیم فوج ہیں،نہ عظیم طاقت ہیں اور نہ ہی عظیم مملکت اسلام ہیں تو شاید یہ مسائل کہیں حل ہو جائیں مگر فالوقت ہم فردا کی رعنائیوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں جو درد بھری داستان نااہلی کو پرکھ کر آگے پڑھے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ عجب بدبختی ہے کہ ہم اپنی محفلوں میں ساری خطائیں مانتے ہیں مگر جو ہی پریس کانفرنس اور ٹیلیویژن کی دنیا سامنے آتی ہے تو ہم مسلمانوں کے واحد مسیحا بن کر سامنے آجاتے ہیں۔

بحر حال اب اس ترقی کی بات کی جائے جس کو دیکھ کر ہم بہت زیادہ ترقی یافتہ تصور کیے جانے کی امید رکھتے ہیں ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں جو واقعی ہماری بہت بڑی ترقی ہے مگر دوسری جانب آج تک ہم اپنی بجلی کا مسئلہ حل نہیں کر پائے ہیں اس قسم کی ترقی تو بے مقصد ہے کہ ہم بنیادی ضروریات انسانی پوری نہیں کر پارہے، ہماری انٹیلیجنس شاید دنیا کی سب سے بڑی انٹیلیجنس ہے مگر آج تک ایک جنِ دہشت گردی بوتل میں بند ہونے کو نہیں آرہا لاکھ کوششیں کر بیٹھے ہیں مگر ایسا ہونے میں نہیں آرہا اب اس کو اور کچھ نہ کہا جائے تو ہماری ترقی کے نقائص ہی گردانا جائے۔

ہم نے ہر ضلع میں کہنے اور دکھانے کو ہسپتال بنا لیے ہیں ان کی عمارتیں بھی بڑی عظیم شان ہیں ایک بار تو مجھے یوں لگا ہی نہیں کہ میں کسی معالج خانے میں ہوں مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں لاہور میں مغل خاندان کے بنائے گئے کسی محل کے دالان میں موجود ہو چاروں طرف بڑے بڑے دروازے اور دربان دل مانو پھولے نہ سماتا تھا مگر جوں ہی اندر داخل ہوئے معلوم ہوا کہ ہمارے مریض کو دل کا عارضہ لاحق ہے اس محل میں شدید امراض کا اعلاج نہیں کیا جاتا ملکہ عالیہ کا دل خراب ہوتا ہے پھر مریض مر جائے تو ملکہ کی رات کی محفل سنگیت منسوخ کرنا پڑتی ہے حکم غنیم ملا کہ اس مریض کو ملتان کے امراض برائے قلب کے معالج خانے میں لے جایا جائے اور وہی پرانی فلمی کہانی، پہچنے پر جان خدا، خدا کے پاس چلی گئی۔۔۔ہمارا ملک پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پانچواں بڑا ملک ہے مگر ہسپتال جو اعلاج کرنے کے قابل ہیں وہ ایک پشاور، ایک لاہور، ایک کراچی، ایک اسلام آباد اور ایک ملتان میں ہے باقی ہر چھوٹے ہسپتال میں یہ حکم صادر ہوتا ہے اسے پشاور لے جاؤ،اسے لاہور لے جاؤ، اسے اسلام آباد لے جاؤ اور اسے ملتان لے جاؤ۔۔۔الحمد اللہ یہ جو عالی شان ہسپتال میں نے بیان کر دیے ہیں یہ سرطان کا اعلاج کرنے کے بالکل قابل نہیں ہیں یہاں تک کے گردوں کے مرض جیسے ڈائلائسس وغیرہ کا اعلاج بھی یہاں ممکن نہیں۔ تو پھر ایک چپت رسید رخ زلف یہ سوال کرتے ہے جو محل نما عمارتیں ضلعی حدود میں تعمیر کی گئی ہیں ان کا کیا مقصد ہے ان کی کیا آفادیت ہے جواب یہ ہے کہ وہاں دربانوں شاہی عمارتوں ایئر کنڈیشن اور سفید رنگ مع سنگ مرمر کے فرش کے سوا کوئی سہولت موجود نہیں بس آپ وہاں جائیں پہلے پہل آپ کو کہا جائے گا بڑا رش ہے جگہ نہیں آپ کسی سے فون کروا کہ بستر حاصل کر بھی لیں تو دو دن بعد فرمان طبیب ارسال ہوگا کہ آپ کا علاج یہاں ممکن نہیں اینو لور لے جاؤ۔
بدقسمتی سے ہم نے اپنا پیسہ انسان سازی اور ادارات سازی پر لگانے کی بجائے اپنی میراث پر چلتے ہوئے مغلوں کے طرز کے مطابق کھوکھلی عمارتیں تعمیر کی ہیں جو بے سود تماشائیوں کے انتظار میں سارا دن کے انتظار بے معنی کے بعد رات کو پکارتی ہیں اور لوگ کہتے ہیں یہاں آسیب ہے۔۔ہاں آسیب تو ہے اس ریاست میں!!!

شہر آسیب میں آنکھیں ہی نہیں ہیں کافی
الٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دیگا

سرطان گردوں اور دیگر امراض کی ذمداری ہم نے خانم،رضوی،ٹھاکر،ایدھی،سیلانی اور مخیر حضرات پر ڈال دی ہے کہ وہ مرتی ہوئی قوم کو بچا تو نہیں سکتے دلاسہ تو دیتے رہیں۔

پاکستان ملک خداداد کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے جس کی ساکھ انگریز بابا کے بنائے گئے نہری نظام پر ہے مگر ہماری ریڑھ کی ہڈی بھی کسی ضلعی ہسپتال کی عالی شان عمارت میں کسی بستر کے انتظار میں قطار میں لگی ہے اس کو اب تک علاج میسر نہیں ہوا اسے فوڈ سیکیورٹی کے نام پر کبھی کسی کی جھولی میں دکھیل دیا جاتا ہے تو کبھی کسی کے قدموں کی آبرو بنا دیا جاتا ہے، اب تو بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب کوئی یہ بھی نہیں کہتا کہ اینو لور لے جاؤ، اگر کیمبل پور کے آس پاس کے جاگیردار اسے حقیقی معنوں میں تسلیم کر لیں تو شاید صحت تو مشکل ہے، کسی سرکاری ہسپتال میں بستر ہی میسر آجائے۔

اب حال بے قراراں یہ ہے کہ ہم آم کی درآمدات کرتے ہیں جو پورا سال تیار ہونے میں لیتا ہے اور پھر بہار کے بعد کی ہواؤں اور مون سون کی بارشوں کا ڈر بھی سر پر سوار رہتا ہے کہ کہیں آم کا ضیاع نہ ہو جائے جو اکثر بمشیت ایزدی ہو بھی جاتا ہے اب ہمارا ایک بڑا آم کا درخت شاید 20 ہزار کا بک جاتا ہوگا مگر دوسری طرف دنیا ایک فون ایک گھنٹے کی قلیل مدت میں تیار کر کے ہماری ریڑھ کی ہڈی سے کہیں زیادہ کما لیتی ہے اور یہی نہیں دنیا جو کام کر کے چھوڑ دیتی ہے ہم اسے 10 سال کے بعد اپناتے ہیں اور پھر چہکتے ہیں کہ ہم نے ترقی کر لی ہے،گاڑی کے ریڈیٹر کا ڈھکن تو ہم آج تک جاپان سے منگواتے ہیں ترقی کرنا تو کسی دیوانے کا سا خواب ہے۔ اور پچھلی دہائی اور رواں دہائی میں ہم نے یہ بارہا دیکھ رکھا ہے کبھی چینی بند کبھی آٹا ختم بس یہی ہماری زندگانی اور راہدھانی باقی رہ گئی ہے کیا ترقی اور اس سے ملحقہ خواب زلیخا۔۔۔

گئے دنوں میں ہم نے برقی سواریوں کی بڑی باز گشت سنی ہے مگر حقیقتاً وہ کروڑوں کے دام مل رہی ہیں ہماری فی کس آمدنی تو اس قابل بھی نہیں رہی کہ ہم چائنہ کا سکوٹر خرید سکیں بلکہ کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔چلیں ایک لحظے کے لیے تصور کر لیتے ہیں کہ ہمارے ملک میں برقی سواریاں آبھی جاتی ہیں تو اس کے پیچھے مقصد تو یہ ہے کی ماحول کو صاف ستھرا کیا جائے خام تیل اور کوئلے سے جان چھڑائی جائے مگر درد جان ہم تو آج تک بجلی بھی کوئلے سے بنا رہے ہیں تو یہ بھی ہماری ترقی کا یوم فردا میں ایک بہت بڑا نقص ہوگا۔

دکھ اور بھی بہت ہیں مگر پھر اُسی لا یعنی اور ٹوٹی پھوٹی امید کے ساتھ یہ دعا ہے کہ ہم لوگ خود کو عظیم گرداننے کی بجائے اپنی کمیوں کو کھلے دل کے ساتھ پہچان لیں کیونکہ جب تک ایسا نہ ہوگا ہم شتر مرگ کی طرح مٹی کے طوفان کو دیکھ کر اپنی آنکھیں اسی مٹی میں موندھ لیں گے اور نتیجہ کیا ہوگا ہم سب خوب جانتے ہیں اور دہائیوں سے بھگت بھی رہے ہیں۔ کسی چیز کو ٹھیک تب تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کے اندر کا نقص معلوم نہ ہوجائے۔اور ہم قصدا نامعلوم ہیں۔


نوٹ : اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء مصنف کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ادارے کے پالیسی یا پوزیشن کی عکاسی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں