گڑبڑ

اک اور دریا کا سامنا تھامنیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

مختلف حالات میں مختلف قسم کی صورتحال سے انسان دوچار رہتا ہے،ایک الجھن ذہن سے نکلتی ہے تو دوسری دست بستہ حاضر ہو جاتی ہے.یہ ایک ایسا نہ ختم ہونے والا ربط زدہ سلسلہ ہے۔اب اگر بات کی جائے تو چشم فلک نے یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ انسان پر ماحول کا، اس کی محفل کا، اس کے روابط کا اثر پڑتا ہے اور ٹھیک ٹھاک پڑتا ہے تو اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ کڑی نکلتی ہے کہ ہماری معاشرتی زندگی جس کا سیاست کی بول چال سے بڑا گہرا سنگم ہے، میں ایک فقرہ بہتات کے ساتھ ملے گا کہ سب کرپٹ ہیں لٹیرے ہیں،اچھا اب اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ لٹیرے تو سب ہیں بلکہ ڈاکو ہیں،کچھ ڈاکو راجے ہیں اور کچھ ڈاکو رانیاں ہیں،شاید کافی لوگ برملا نہ کہتے ہوں مگر نجی محفلوں میں نظام کی لیت ولعل مین و میخ خوب نکالتے ہیں،یعنی سارا کچا چٹھا کھول دیتے ہیں۔اب اس بکھیڑے کو شعر کی صورت میں بیان کرو تو بھی ایک چیز گڑبڑ گنہگار آنکھوں کے سامنے آتی ہے اور وہ بھی دل نہیں مانتا کہ فاسق آنکھوں کا اعتبار کروں بھی کہ نہیں بہر حال شعر کچھ یوں ہے کہ

جام ہے توبہ شکن توبہ میری جام شکن
سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا

بات کرنے والے بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ بول کیا رہے ہیں کس کے خلاف الاپ رہے ہیں کہیں خود پر تو لعن طعن نہیں کر رہے خود کو تو نہیں کوس رہے اپنا چاک گریباں تو دنیا کو نہیں دکھا رہے مگر افسوس کہ یہ ان کو خود بھی نہیں معلوم کیونکہ وہ عالم کابوس میں رہتے ہوئے خواب سے بیخواب ہوتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے سب کچھ بتا دیتے ہیں یعنی اپنے منہ پر خود کالک مل لیتے ہیں یا کوئی انٹرویو،کتاب یا ویڈیو وائرل کروا بیٹھتے ہیں،اب ان باتوں کو بھلا کو جان کر کرے گا بس کہیے کہ سرزد ہو جاتی ہیں یا کوئی سرزد کروا دیتا ہے محبت عسکری میں یا محبت طاقت میں اس قسم کا علم غیبی تو میں بھی نہیں رکھتا۔

اب اس قسم کے بے زباں دو قسم کے ہیں ایک اسد درانی جیسے اور دوسرے تھڑے پر بیٹھے ہوئے لوگ دونوں کے قول و فعل میں تضاد ہے،جسیے مجھے اس بات سے مصطفی کمال ترکوں کے باپ نہیں ہمارے کراچی والے بھائی یاد آتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ لندن والے قاتل ہیں مگر میں لاء ابائڈنگ سٹزن ہوں میرا ان کے ساتھ چلنا ان کے لیے کام کرنا حتی کہ ان کو قتل کرتے دیکھنا اور 30 برس تک دیکھنا کوئی گناہ نہیں شاید ان کی نگاہ چشم ملاں تھی جو نفرت سے قتل کا فلمی سین دیکھتی رہی۔
بحر حال اسد درانی جیسے زیادہ لوگوں کی بات کی جائے تو بے محل ہے کیونکہ سنسر ہو جائے گی ہاں تھڑے والوں کی قبا چاک کی جائے تو اس میں بھی پیوند ہیں اب بھلا وہ کیسے اس معاشرے میں میری نظر میں تو ماں باپ بنے کا کرائٹیریا بلوغت کی بجائے کوئی انٹری ٹیسٹ رکھ دیا جائے تو شاید کم اور اچھے ماں باپ تیار ہو سکیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس میں بھی سلف فائنانس کے ذریعے پرائیویٹ داخلے گلی گلی کھل جائیں گے۔کس قدر بد بخت ہے وہ بچہ کہ جس کی ماں اسے ایدھی کے پنگھوڑے میں ڈال گئی اب کیا ایسی عورت کے پیروں تلے بھی جنت ہے خدا جانے ہم اگر عرض کریں گے تو تباہی ہوگی،دوسری طرف پابوں کا یہ حال ہے کہ سارا دن تھڑوں پر بیٹھ کر مدھوبالا کی کہانیاں سناتے ہیں اور عدالت میں اپنے نطفے سے پیدا کیے بچے کا خرچہ دینے کو پنگا ڈالتے ہیں عورت کو ستاتے ہیں سالوں یا سابقہ سالوں کو ذلیل کرتے ہیں۔غضب خدا کا اس ملک میں مہر کے سونے اور جہیز کی مالیت سب سے بڑا معمہ ہے عورت کو مرد چور اور عورت مرد کو غاصب گردانتی ہوئی پائی جاتی ہے سچا کون اور جھوٹا کون اس کا فیصلہ سول جج بھی کیا خاک کرے گا وہ تو 9 سے 4 کا ملازم ہے۔
اسلامی ٹچ دیے بغیر بس اتنا ہی کہ معاہدے کی انسانی زندگی میں بڑی وقعت ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ لین دین میں ڈس آنر چیک کی مارکیٹ میں بھر مار ہے ایک کہتا ہے کہ ادا کر دیے ہیں دوسرا کہتا ہے میری شہرت کو داغ دار کیا جارہا ہے۔

اس کے بعد آتا ہے انٹیلیکچول طبقہ جو انسانی حقوق کا مائی باپ ہے سارے انسانی حقوق کا ٹھیکا اس نے مرتے وقت ملکہ برطانیہ سے حال ہی میں لکھوا لیا تھا کیونکہ ملکہ ہماری سوتیلی دادی جان تھی جنہوں نے ہمارے ابا جی کو دادا کی وراثت سے محروم کر دیا تھا مگر خون تو خون ہوتا ہے کہا چھوڑا جاسکتا ہے۔اس بات کا جواب کس کے پاس ہے کہ ہمارے بڑے بڑے لکھاری ڈرائیور پر نہیں چیختے یہ مادام بھی ٹی وی پر آتی ہیں آئین و قانون کا بھاشن دینے مگر ایک ویڈیو میں چائلڈ لیبر کرواتے ہوئے پکڑی جاتی ہیں اور آج تک پشیمان نہیں ہوئی اور اسی ڈھٹائی سے بھاشن دیتی ہیں۔دوسری طرف خواتین کے حقوق کے محافظ ہیں جو دوستوں کی محفل میں ماں بہن کی گالی سے نیچے نہیں اترتے اور عورتوں کی چال سے ان کا کریکٹر بتا دیتے ہیں مگر ٹی وی پر مطمئن ایسے کہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں۔کوئی اگر ہمت کرے گالی کو پنجاب کا کلچر کہ بھی دے تو اس کو بھی ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں عجیب گڑبڑ ہے۔آج کل تو اس قدر ترقی ہوئی ہے کہ اب تو گالیاں اور موسیقی کا چولی دامن کا ساتھ ہو گیا ہے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کہتی ہیں کہ مجھے خوشی ہے کہ اب نوجوان اردو کی بجائے انگریزی میں گالم گلوچ فرماتے ہیں اور اردو محفوظ ہوگئی ہے ان کی بات تو بجا ہے مگر حفظ ریختہ بھی ثاقب نثار کی طرح قصہ پارینہ ہوچکا ہے۔
ایک اور گڑبڑ یہ ملاں ہیں جو عورتوں کی سیاست ان کی حکومت ان کی تعلیم سب کے خلاف ہیں اور انہیں کو خلاف شرعیت آزادی دینے کے قانون کی اسمبلی میں تائید بھی کرتے ہیں،بچے بھی شوق سے پیدا کرتے ہیں لیڈی ڈاکٹر گائناکالوجسٹ بھی ضروری ہے مگر لبرٹی کی لڑکی کا میڈیکل کالج نہیں پسند مگر خدا کی پناہ یہ لوگ مخصوص نشستوں پر عورتوں کو لے بھی آتے ہیں اور کہتے ہیں عورتوں کا سیاست اور حکومت سے کوئی واسطہ تعلق نہیں نہ جانے حرام سیٹ خالی کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔ آج کل تو لبرٹی کی عورتوں کے ساتھ فوٹو سیشن کھانا اور آخر میں پریس کانفرنس بھی مباح ہوگئی ہے دوسری طرف بلڈی ملا کہنے والے جب مرتے ہیں تو غسل کی سروس 50 ہزار دے کر اسی بلڈی ملا سے ہی کروائی جاتی ہے عجیب گڑبڑ ہے۔ وہ کیا ہے کہ

اندرونی ہوں یا بیرونی حالات
مخمصے ختم ہی نہیں ہوتے

اور اب یہ معاملہ اگر دیکھ لیا جائے کہ کسی کی ازدواجی زندگی نکاح طلاق میں ہم جتنے انہماک سے بات کرتے اور اپنی آراء دینے میں آگے بڑھ بڑھ کر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کردیتے ہیں اگر یہی بات اپنے اوپر بیت جائے تو پرائیویسی اور پرائیوٹ لائف کی شاندار تھیوری تماچے کے طور پر رسید رخ لال کر دی جاتی ہے،صبح شام اپنے رب سے پانچویں کلمے میں اپنے گناہوں کی عیبوں کی معافی اور ستار عیوب کی دلیلوں سے خدا کو بلیک میل کرتے ہیں اور فون پر لوگوں کے سکینڈلز کو اچھالنے بے ہودہ لایعنی میمز بنا کر اپنے فن اور ملکی و قومی وسیع تر ٹیلنٹ کا اظہار کیا جاتا ہے،ہم وہ بد بخت قوم ہیں جو گنیز رکارڈ میں تو پنڈی میں دنیا کا سب سے اونچا اور لاہور میں سب سے بڑا جھنڈا بنا دیتے ہیں اور اس قدر نالائق ہیں کہ ایک دوسری کی قبا چاک کرنے میں عیب تلاش کرنے میں کنٹرو ورشل ایمیوزمنٹ کے نام پر لطف سرشت حاصل کرتے ہیں۔

اب ایک عجیب و غریب دلیل دی جاتی ہے کہ فلاں زانی ہے فلاں شرابی ہے فلاں فلاں ہے جبکہ علم کسی ایک کو بھی نہیں ہاں اگر روایت طلب کرلی جائے گواہ تو کوسوں دور کی بات ہے فقط لیت ولعل کے سوا کوئی جواب نہیں۔

میں عام سا فقیر سا نالائق آدمی ہوں دینی تعلیم سے بلکل عاری ہوں نمبر میرے کم آتے تھے ایک بار نالائقی سرزد ہوگئی میں اپنے بزرگوں سے سوال کر بیٹھا کہ بچے کم ہی اچھے جس پر وہ بپھر گئے کیا ہوا یکا یک اسلامی ٹچ سے ماحول دومانی ہوگیا اور وہ کہنے لگے رزق کا وعدہ خدا کا ہے اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اور آواز آئی کہ تعلیم بھی تربیت بھی رزق ہے اب میں کیا مزید سوال کرتا کیونکہ جان کی امان پانا مشکل دکھائی دے رہا تھا ان سے تو میں کچھ نہ کہ سکا مگر آپ سے عرضاں ہوں کہ اگر تعلیم رزق ہے تو کیوں ہمارے 4 کروڑ بچے بے ورق و قلم مارے مارے پھرتے ہیں اس پر بھی فریق دوم کا جواب یقینا تیار ہے کہ ان چار کروڑ بچوں کے ماں باپ کو توکل نہیں ہے (جیسے میں نے کہا تھا کہ کوئی بلوغت کے سوا کوئی اور کرائیٹیریا بنادیا جائے) اس پر میں سوچ میں پڑگیا کہ بات تو بجا ہے،دوسری طرف دیکھا جائے تو مولوی صاحب کے 10 بچے ہیں اچھا کھا پی رہے ہیں مزید سوچنے پر پتا چلا کہ وہ بے توکلے لوگوں کے بچوں کی در در سے مانگی ہوئی خوراک جو دن بھر مدرسوں کے لیے اکٹھی کی جارہی ہے اس سے مولوی صاحب کا نظام مطبخ گامزن ہے اور پھر کہتے ہیں تعلیم بھی رزق ہے یہ جھوٹے منبر جھوٹے قاضی جھوٹے ہم تم سب گڑبڑ ہے۔

اب بزرگوں کا ذکر ہوہی گیا ہے تو یہودی کی بات کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ پچھلے دنوں تمام نے فیس بک پر اینٹی سیمیٹک باتیں خوب پڑھ رکھی ہیں،ایک تو کہنے لگے کہ وہ ہمیں ان موبائل فونوں کے ذریعے قابو کر رہے ہیں میں سوچ میں پڑ گیا کہ فیس بک آخر ایجاد کس کی ہے مگر جواب میں مجھے اپنے معزز بزرگوں پر غصہ کم اور ترس زیادہ آیا کیونکہ یہ وہ نسل ملک خداداد ہے جو رج کے نالائق پیدا ہوئی ہے اگر عملی مظاہرہ کرنا ہو تو 50 سے ساٹھ سال کے افسروں اور ملازموں کے دفاتر وزٹ کر کے گپ شپ فرمائیں معلوم ہوجائے گا،پھر کہنے لگے کہ بچے ہر وقت فون میں ہوتے ہیں مگر سوال ہے فون کس نے لے کر دیا ہے؟یہ اکثر آپ نے سنا ہوگا بزرگوں کی زبان مبارک سے کہ موسیقی حرام ہے مگر کبھی اولاد کو روکا انہوں نے؟مہندی کی فضول خرچی بے کار عمل ہے تو مہندی کا خرچہ بیٹی کی شادی میں موصوف خود اٹھاتے ہیں اور جھالر والی واسٹک بھی ٹھمکاتے ہیں۔

جہیز ایک لعنت ہے،میں نے مولٹی فوم کا گدا دیا ہے جی اپنی بیٹی کو یعنی اتنی اخلاقی قدر نہیں کہ سربراہ ہوتے ہوئے اپنے گھر کو سیدھا کر سکیں اور کہتے ہیں شہباز شریف،جنرل باجوہ ڈکٹیشن لیتے ہیں جواب بس اتنا ہے کہ سب گڑبڑ ہے آپ تھڑے والے ہیں اور وہ اسد درانی والے بات ایک ہی ہے۔

الفاظ کی ناموس ہمارے معاشرے میں ہرگز باقی نہیں رہی کلام کرنے والا خود ہی بے خود ہے اور زمین و آسماں کو ملانے کہ بعد مفہوم سے نابلد دکھائی دیتا ہے۔نتیجہ اخذ کرنا بھی ایک بھید بھاؤ ہے جو ہر انسان اپنی فکری اور کاروباری ذہنیت کے مطابق کرتا ہے میری تمام نالائقوں اور حماقتوں کا مجموعہ گڑبڑ سے کیا نکالنا ہے وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔

وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے
یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے


نوٹ : اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء مصنف کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ادارے کے پالیسی یا پوزیشن کی عکاسی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں