کوئٹہ کے سریاب شاہوانی اسٹیڈیم کے قریب سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ان کی دو گاڑیاں اور پارٹی کے مرکزی لیبر سیکریٹری داد محمد بلوچ کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ خوش قسمتی سے میر کبیر احمد محمد شہی سمیت دیگر قائدین محفوظ رہے تاہم ان کے گن مین اور متعدد کارکن زخمی ہوئے۔
واقعے کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ حکومت بلوچستان نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سیکورٹی فورسز کو شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنا لاہور کا دورہ منسوخ کرکے چیف منسٹر سیکرٹریٹ واپس آکر حالات کا خود جائزہ لیا۔ انہوں نے شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کرنے کے لیے فضائی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات دی جائیں گی۔
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردوں کے عزائم کو اتحاد کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔
وزیر اعظم پاکستان نے بھی دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو واقعے میں ملوث عناصر کی نشاندہی اور فوری گرفتاری کا حکم دیا۔ ان کے بقول، بلوچستان میں دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہیں مگر قوم کے حوصلے بلند ہیں۔
دھماکے کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ حملہ سیکورٹی اداروں کی ناکامی ہے اور ایسے واقعات نے عوام کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی اور نوابزادہ گہرام بگٹی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اس قسم کے واقعات سے بلوچستان کی سیاسی قوتوں کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
مرکزی چیئرمین مظلوم عوامی تحریک صادق خان اچکزئی نے اس سانحے کو پورے بلوچستان اور پاکستان پر حملہ قرار دیا۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف شفاف تحقیقات اور فوری کارروائی وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے رکن حاجی میر عبید اللہ گورگیج نے کہا کہ دہشت گرد عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے سرگرم ہیں لیکن ان کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نوشکی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے 3 ستمبر کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ دیگر کئی جماعتوں اور تنظیموں نے بھی شہداء کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی اور زخمیوں کے لیے دعاؤں کا اظہار کیا۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما میر ضیاء اللہ لانگو اور ایمان پاکستان تحریک کی چیئرپرسن فرح عظیم شاہ نے بھی اس واقعے کو صوبے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد نہ کسی مذہب کے ہیں اور نہ کسی قبیلے کے، ان کا مقصد صرف انسانی جانوں سے کھیلنا اور صوبے کو غیر مستحکم کرنا ہے۔