مائی امپیکٹ میٹر” عطیات کو ڈیجیٹل بنا کر شفافیت کو یقینی بنا رہا ہے: مسعود خان”

کنول چیمہ کی معروف پاک-امریکی آئی ٹی اور ٹیک انٹرپرینیورز کو مائی امپیکٹ میٹر کے بارے میں ببریفنگ

واشنگٹن، “ائی امپیکٹ میٹر” کی بانی اور سی ای او کنول چیمہ نے کہا ہے کہ ہم غربت کے خاتمے، سماجی انضمام اور ہیومن سیکیورٹی کے حوالے سے ٹیکنالوجی کو برؤے کار لا رہے ہیں۔ مائی امپیکٹ میٹر ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو دنیا بھر کے مخیر حضرات کو پاکستان میں مقیم مستحقین کے ساتھ جوڑتا ہے۔
کنول چیمہ نے کہا کہ عطیات کو ڈیجیٹل بنا کر جہاں ہم اعتماد کی فضا کو تقویت ، شفافیت کو یقینی بنانے اور اپنی رسائی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں ہم عطیہ دہندگان کی معاشرے کے غریب ترین افراد تک پہنچنے، انہیں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے اور انکو پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرکے نسلی غربت سے نکالنے میں مدد کر رہے ہیں۔
کنول چیمہ نے یہ بات پاکستان ہاؤس میں معروف پاک-امریکی ٹیک انٹرپرینیورز، آئی ٹی پروفیشنلز اور بزنس لیڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ اس ملاقات کا اہتمام امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کیا تھا۔
کنول چیمہ کا واشنگٹن ڈی سی میں خیرمقدم کرتے ہوئے سفیر پاکستان مسعود خان نے غربت کے خاتمے اور سماجی انضمام کے لیے ان کے کام کو سراہا۔ انہوں نے کنول چیمہ کے بین البراعظمی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ براعظموں کے درمیان ایک اچھا پل بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنول ایک سماجی کاروباری شخصیت ہیں۔ سفیر پاکستان نے مزید کہا کہ ہم نے اس ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کو متعارف کرایا ہے اور آج کی اس ملاقات کا نیتجہ بہتر نیٹ ورکنگ کی صورت میں ہونا چاہیے۔
اپنے ٹویٹ میں مسعود خان نے کہا کہ مائی امپیکٹ میٹر کی بانی اور سی ای او کنول چیمہ نے پاکستان میں غربت کے خاتمے، پیشہ ورانہ تربیت اور سماجی انضمام کے لیے اپنا منفرد پلیٹ فارم پاکستانی ٹیک انٹرپرینیورز اور بزنس لیڈرز کو متعارف کرایا ہے ۔ پاکستانی تارکین وطن اور مخیر حضرات کے تعاون کے ذریعے پاکستان میں انسانی سلامتی کو فروغ دینے کے لیے ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے لیے یہ بہترین ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام پاکستانی نژاد امریکیوں کا مشکور ہوں جنہوں نے اس تقریب میں شرکت کی۔
مائی امپیکٹ میٹر پلیٹ فارم کا تعارف کرواتے ہوئے محترمہ کنول نے کہا کہ ایم آئی ایم کے چار ستون ہیں۔ یہ این جی اوز کی مارکیٹ
ہے ۔ اس وقت ہمیں پاکستان سے تقریباً 70 این جی اوز مل چکی ہیں اور ہر روز مزید مل رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم انسان دوستی اور فلاحی سرگرمیوں میں شامل ہر این جی او کے کام میں مکمل شفافیت کو یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اشیائے خوردو نوش اور تعلیم کے لیے ڈیجیٹل واؤچر متعارف کرائے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ مستحقین کو لیپ ٹاپ اور دوران تربیت اشیائے خوردونوش بھی فراہم کر تا ہے تاکہ وہ اپنی پوری توجہ ان مہارتوں پر مرکوز کر سکیں جو وہ مستقبل میں اپنی روزی کمانے کے لیے حاصل کر رہے ہیں۔
دوران گفتگو کنول چیمہ نے فنڈز کی تقسیم، مستحقین کی معلومات کے بارے مین رازداری اور غربت سے باہر نکلنے والے لوگوں کی مدد کرنے میں پلیٹ فارم کی کامیابی کے حوالے سے سوالات کے جوابات دیے۔
محترمہ کنول نے سفیر پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کی میزبانی کی اور پاک-امریکہ کے معروف آئی ٹی پروفیشنلز اور ٹیک انٹرپرینیورز سے رابطہ قائم کرنے میں ان کی مدد کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں