اسلام آباد، پاکستان — چیئرپرسن بی آئی ایس پی (BISP) سینیٹر روبینہ خالد نے ورلڈ بینک کے CRISP ریویو مشن کے اختتامی اجلاس کی صدارت کی، جس میں پروگرام کی پیشرفت اور آئندہ کے اہداف پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران CRISP (کاؤنٹرنگ مائیکرو اکنامک شاکس ویا اسٹریٹجک سوشل پروٹیکشن) ریویو کے اہم نکات اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جامع جائزہ لیا گیا۔
آپریشنل نظام اور نگرانی کو مربوط بنانے پر زور
اجلاس میں بی آئی ایس پی کے آپریشنل ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجویزات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے مستحقین تک شفاف اور بروقت امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط اور مربوط مانیٹرنگ اینڈ ایوویشن (نگرانی) کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے اہم نکات
- صدارت: چیئرپرسن BISP سینیٹر روبینہ خالد کی ورلڈ بینک کے نمائندوں کے ساتھ اہم نشست۔
- بنیادی ایجنڈا: CRISP ریویو مشن کی سفارشات اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا جائزہ۔
- آپریشنل اصلاحات: بی آئی ایس پی کے اندرونی نظام کو مزید شفاف اور فعال بنانے پر اتفاق۔
- مربوط نگرانی: شفافیت اور بہتری کے لیے سخت سکیورٹی و مانیٹرنگ فریم ورک کے قیام پر تبادلہ خیال۔
ورلڈ بینک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری
بی آئی ایس پی اور ورلڈ بینک کے مابین یہ طویل المدتی تعاون پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
حکام کے مطابق عالمی بینک کے تعاون سے جاری اقدامات کا مقصد غریب اور مستحق خاندانوں کو اقتصادی صدمات سے بچانا اور ان کی مالی معاونت کے نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔
