حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد ایران نے دوری اختیار کر لی، اتحادیوں کا سعودی دفاع مضبوط بنانے کا فیصلہ

ریاض/قاہرہ — یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں اور تیزی سے پیش قدمی کے بعد سعودی عرب، ترکی اور پاکستان ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس منعقد کرنے جا رہے ہیں۔

اس اجلاس کا بنیادی مقصد حوثی جنگجوؤں کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور مملکتِ سعودی عرب کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اور سٹریٹیجک تعاون پر غور کرنا ہے۔

حوثیوں کی پیش قدمی سے تہران کی لاتعلقی

حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی شدید کارروائیوں اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران تہران نے حوثیوں کی تیز رفتاری سے ہونے والی پیش قدمی سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

حوثی تحریک کی پشت پناہی کے عالمی الزامات کے باوجود ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ یہ گروپ اپنے جنگی فیصلوں اور دفاعی حکمتِ عملی میں مکمل طور پر آزادانہ عمل درآمد کر رہا ہے۔

دفاعی اتحاد اور سیکیورٹی تعاون میں اضافہ

  • مشترکہ دفاعی عمل درآمد: اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان موجود دفاعی معاہدوں کو فوری فعال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  • انٹیلی جنس اور فضائی دفاع: اجلاس کا محور فضائی دفاعی صلاحیتوں کی بہتری، انٹیلی جنس شیئرنگ اور بحری سرحدوں کی حفاظت ہو گا۔

  • خطے میں استحکام کی کوششیں: یہ سہ فریقی اتحاد خطے میں حوثی حملوں کی روک تھام اور پائیدار امن و امان کے قیام کے لیے کام کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *