نوشکی 9 مسافروں کو بس سے اتار کر قتل کر دیا گیا، وزیراعظم، وزیراعلی، وزریرداخلہ کی طرف سے مذمت

جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو کوئٹہ سے تافتان جانے والی بس کے ساتھ یہ واقعہ نوشکی شہر سے 6 کلومیٹر پہلے سلطان چڑھائی کے علاقے میں پیش آیا۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک بس سے اتارنے کے بعد انھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس پہاڑی علاقے میں مسلح شرپسندوں نے کوئٹہ سے تفتان جانے والی ایک بس کو روکا۔

بس سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کو اتارا گیا، جنھیں کچھ فاصلے پر لے جانے کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق پنجاب کے علاقے منڈی بہاِؤالدین اور دیگر دو علاقوں سے تھا۔یہ افراد کوئٹہ سے تفتان جانے کے لیے مسافر بس میں بیٹھے تھے۔

جبکہ اسی مقام پر سلطان چڑھائی کے قریب فائرنگ کے واقعے کے دوران بلوچستان عوامی پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی غلام دستگیر بادینی کی گاڑی فائرنگ کی زد میں آئی۔

اس کے ٹائر برسٹ ہونے سے وہ الٹ گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جب کہ 6 زخمی ہو گئے۔

گاڑی رکن صوبائی اسمبلی غلام دستگیر بادینی کے بھائی چلا رہے تھے جو حادثے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو میرگل خان نصیر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں پہلے ہی ایمرجنسی نافذ کرکے اسٹاف کو رات گئے طلب کیا گیا تھا

وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیرداخلہ محسن نقوی اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے نوشکی میں بیگناہ مسافروں کے قتل کی مذمت کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں