ویب ڈیسک.چین نے ایران کو اس کی خودمختاری اور سکیورٹی کے دفاع میں مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث عالمی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور بین الاقوامی برادری خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو میں کہا کہ چین ایران کی خودمختاری، سکیورٹی اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کی حمایت کرتا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سیاست اور سفارتی تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔
بیجنگ کا مؤقف: بین الاقوامی قوانین کا احترام ضروری
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق بیجنگ نے زور دیا کہ ایران کی قومی خودمختاری، سکیورٹی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا ضروری ہے۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ چین کو لڑائی کے پھیلاؤ سے متعلق گہری تشویش ہے۔
ترجمان نے کہا کہ فریقین فوجی آپریشنز روکیں اور لڑائی کے پھیلاؤ سے بچیں۔ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور عالمی تعاون اور سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا اثر نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی پڑ سکتا ہے۔ چین کا واضح مؤقف اقوامِ متحدہ (UN) سمیت دیگر عالمی اداروں میں آئندہ سفارتی مباحث پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
عالمی طاقتوں کی پوزیشننگ اس بحران کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ مسلم ممالک کی تنظیم اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سفارتی توازن اور عالمی تعلقات
پاکستان، جو پاکستان فارن افیئرز اور عالمی سفارتی تعلقات میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کو خطے کے امن کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ اسلام آباد کی پالیسی روایتی طور پر علاقائی سالمیت، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور مذاکراتی حل کی حمایت پر مبنی رہی ہے۔
ماضی میں پاکستان نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز پر سفارتی حل اور بین الاقوامی برادری کے کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
چین کا حالیہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں اس تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ آئندہ دنوں میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اس معاملے پر مزید بحث متوقع ہے۔
اسلام آباد سی این این اردو سمیت عالمی میڈیا اس پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنے کا امکان ہے۔