ایرانی فرانزک ادارے کے مطابق دہشت گرد حملوں میں 3,117 افراد جاں بحق، 2,427 کو شہید قرار دے دیا گیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں، جب کہ سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی ان حملوں کا نشانہ بنے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی سطح پر سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کی مدد سے کی گئیں، جن کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیمیں
ایران نے اس معاملے پر اقوام متحدہ (UN) اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر عالمی تعاون کو فروغ دیں۔ ایرانی حکام کے مطابق دہشت گردی ایک عالمی انسانی بحران ہے جس کا مقابلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
یہ معاملہ مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، عالمی امن، اور بین الاقوامی برادری کے کردار پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران میں دہشت گردی کے یہ اعداد و شمار نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی سیاست اور سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک اس صورتحال کو Middle East crisis کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جہاں استحکام کے لیے عالمی تعاون ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں مزید تیز کریں گے اور عالمی برادری کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔