واہ کینٹ: واہ کینٹ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے قائم مقام امیر جماعت اسلامی پی پی 13 اور صدر سیاسی کمیٹی زون پی پی 13 راجا حبیب الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی ٹی روڈ کی حفاظتی تحریک خالصتاً عوامی ہے۔
ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کے مقامی قائدین بھی موجود تھے، جن میں امیر جماعت اسلامی ٹیکسلا عتیق کاشمیری، حسن ابدال کے امیر عبدالمجید، جنرل سیکرٹری سیاسی امور فیصل کیانی، صدر پبلک ایڈ کمیٹی یوتھ ونگ اسجد عباسی اور چیئرمین انجمن تاجران واہ کینٹ نعیم اشرف شامل تھے۔
حادثات اور حکومتی نااہلی پر تنقید
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ناقص سڑک اور حکومتی نااہلی کے باعث اس شاہراہ پر آئے روز حادثات رونما ہو رہے ہیں، جن میں اب تک 997 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قتلِ عام کے مترادف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 16 کے قریب احتجاجی مظاہروں اور متعدد ملاقاتوں کے باوجود تاحال کوئی مؤثر اور عملی اقدام سامنے نہیں آ سکا۔
مطالبات اور آئندہ کا لائحہ عمل
رہنماؤں نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ تحریک کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ عوامی سلامتی کے لیے ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد گرینڈ مشاورتی جرگہ بلایا جائے گا، اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دھرنے کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
آخر میں میڈیا نمائندگان سے اپیل کی گئی کہ اس سنگین مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ اسلام آباد اور گردونواح کی تازہ ترین صورتحال پر فیصلہ ساز فوری توجہ دیں۔
قومی شاہراہیں اور عوامی تحفظ
پاکستان میں قومی شاہراہوں کی حالت اور ٹریفک سیفٹی ایک بڑا عوامی مسئلہ ہے۔ عالمی معیار کے مطابق سڑکوں کی دیکھ بھال، سائن ایج، روشنی اور ٹریفک مینجمنٹ حادثات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ اس تناظر میں جی ٹی روڈ کی بحالی عوامی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
اگر مطالبات پر فوری عملدرآمد ہوتا ہے تو نہ صرف حادثات میں کمی آئے گی بلکہ علاقائی تجارت اور آمدورفت بھی محفوظ ہو گی۔ بصورتِ دیگر، تحریک کے اگلے مرحلے میں احتجاجی دھرنوں سے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔