طلبہ کو کاروباری ذہنیت اپنانی چاہیے، نوجوان انتہا پسندی کے خلاف کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں.ڈاکٹر احمد خاور شہزاد،

راولپنڈی: پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے پالیسی ڈائیلاگ فورم کے زیرِ اہتمام “انتہا پسندی کے انسداد اور تدارک میں نوجوانوں کا کردار” کے عنوان سے ایک بصیرت افروز سیمینار منعقد ہوا، جس میں طلبہ، اساتذہ، ڈینز اور ڈائریکٹرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سیمینار کے مہمانِ خصوصی پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن سی وی ای کے ڈی سی او ڈاکٹر احمد خاور شہزاد تھے، جبکہ دیگر مقررین میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی اسلام آباد کی ڈائریکٹر ڈاکٹر روبینہ اور نیشنل ایکسپرٹ برائے ڈی ریڈیکلائزیشن ڈاکٹر نمرہ اشفاق شامل تھیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پالیسی ڈائیلاگ فورم کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے مہمانانِ گرامی اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

نوجوان، کاروباری سوچ اور پُرامن پاکستان

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے یونیورسٹی کے طلبہ کے نظم و ضبط، جذبے اور مثبت طرزِ عمل کو سراہا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی تحقیقی و تعلیمی کاوشوں—جیسے سینٹر آف پریسیژن ایگریکلچر، پاک چین تحقیقی سنٹر برائے مؤثر آبی ٹیکنالوجیز اور نیشنل سنٹر آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی—کو پاکستان کی علمی و تکنیکی ترقی کی روشن مثالیں قرار دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کاروباری ذہنیت اپنائیں اور اپنی توانائی کو ایک پُرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر میں صرف کریں۔

طلبہ امن کے سفیر ہیں

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے طلبہ امن و ہم آہنگی کے حقیقی سفیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ اور انتظامیہ باہمی مشاورت سے پالیسی اقدامات کا جائزہ لے کر مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے طلبہ پاکستان کا مثبت اور پُرامن تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

نفسیاتی مضبوطی اور مثبت سوچ کی ضرورت

ڈاکٹر روبینہ اور ڈاکٹر نمرہ اشفاق نے نوجوانوں کو درپیش نفسیاتی و سماجی چیلنجز پر روشنی ڈالی اور انتہا پسندانہ نظریات سے بچاؤ کے لیے ذہنی مضبوطی، تنقیدی سوچ اور مثبت رویّوں کو فروغ دینے کی حکمتِ عملیوں پر زور دیا۔

سوال و جواب، عملی مکالمہ

تقریب کے کوآرڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین بابر نے نوجوانوں میں شمولیت، امید اور برداشت کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی اور طلبہ کو مایوسی و منفی سوچ سے گریز کی تلقین کی۔ سیمینار کا اختتام سوال و جواب کے ایک دلچسپ سیشن پر ہوا، جس میں طلبہ نے امن، سماجی ہم آہنگی اور مثبت شہری کردار کے فروغ کے لیے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں