ایران کا برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور فرانس کے سفیروں کو طلب کرنا، مظاہروں سے متعلق شواہد پیش

ایران میلٹری مونیٹری کے x اکاؤنٹ سابق ٹویٹر کے مطابق، ایران کی وزارتِ خارجہ نے برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور فرانس کے سفیروں کو طلب کر کے حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کی ویڈیوز اور دستاویزی شواہد پیش کیے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ ممالک کھلے عام مظاہروں کی حمایت کر رہے تھے، جس پر ایران نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ایرانی حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پیش کی گئی فوٹیج میں مظاہرین کی جانب سے کی گئی پرتشدد کارروائیاں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں، جو پرامن احتجاج کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے منظم تخریب کاری کے زمرے میں آتی ہیں۔

ایران نے سفیروں سے مطالبہ کیا کہ یہ شواہد اپنے اپنے وزرائے خارجہ تک پہنچائے جائیں اور مظاہروں کی حمایت میں دیے گئے سرکاری بیانات واپس لیے جائیں۔ وزارتِ خارجہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی قسم کی سیاسی یا میڈیا حمایت ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔

عالمی سفارت کاری اور خطے کی صورتحال

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی عدم استحکام، انسانی حقوق اور بین الاقوامی سفارتی روابط عالمی اداروں اور یورپی یونین کے ایجنڈے کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ایران پہلے بھی مختلف ممالک پر اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جس سے خطے میں سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے ایران اور یورپی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ یورپی دارالحکومت اس مطالبے پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا یہ معاملہ کسی بین الاقوامی فورم تک پہنچتا ہے یا نہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں