جمہوریہ ایران ایمبیسی اسلام آباد کے ترجمان نے ایک تفصیلی حقائق پر مبنی بیان جاری کیا ہے، جس میں احتجاجات کی وجوہات، تشدد کے واقعات، انسانی حقوق اور غیر ملکی مداخلت پر اپنا مؤقف واضح کیا گیا ہے۔

احتجاجات کا پس منظر
اتوار، 28 دسمبر 2025 کو ایران میں زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافے کے بعد تہران کے بازار میں بعض تاجروں کی جانب سے معاشی خدشات پر مبنی احتجاجی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ حکومتی بیان کے مطابق یہ احتجاجات ابتدا میں پُرامن تھے اور ان کا مقصد معاشی مسائل کی نشاندہی تھا۔
پُرامن احتجاج اور تشدد میں فرق
ایرانی حکومت نے واضح کیا کہ پُرامن احتجاج آئینی حق ہے اور حکومت آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پابند ہے۔ تاہم، بیان میں کہا گیا کہ چند محدود عناصر نے ان احتجاجات کو پُرتشدد بنانے کی کوشش کی، جن میں پولیس اسٹیشنوں پر حملے، آتش گیر آلات کا استعمال اور بعض مقامات پر اسلحے کا استعمال شامل تھا۔
حکام کے مطابق ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت پُرامن احتجاج کے دائرے میں نہیں آتے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل
ایران کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اور ضرورت و تناسب کے اصولوں کے تحت عوامی نظم و نسق کی بحالی کے لیے اقدامات کیے۔ حکومتی بیان کے مطابق شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دی گئی۔
غیر ملکی مداخلت کے الزامات
بیان میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے بعض عہدیداروں کے بیانات کو ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا گیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسے بیانات اقوامِ متحدہ کے منشور، خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے نتیجے میں تشدد اور بدامنی کو ہوا ملتی ہے۔
پابندیاں اور معاشی اثرات
ایرانی حکومت نے یکطرفہ پابندیوں کو ملک کی معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کے باعث تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی اشیاء تک رسائی متاثر ہوئی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑا ہے۔
ایران میں جاری صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ احتجاجات، غیر ملکی ردعمل اور پابندیوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔
حکومتی بیان کے مطابق ایران پُرامن مطالبات کے حل کے لیے جائز راستے اختیار کرتا رہے گا، جبکہ تشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔ عالمی سطح پر اس معاملے پر سفارتی ردعمل اور بیانات آنے کا امکان ہے۔