تحریر:.عابد صدیق چوہدری (اسلام آباد)
1979ء کا اسلامی انقلاب نہ صرف ایران کی تاریخ میں بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انقلاب کے بعد ایران نے خود کو ایسی بین الاقوامی کشمکش کے درمیان پایا جس میں طاقتور ریاستیں، عالمی معاشی ادارے، علاقائی بلوکس اور سفارتی مفادات براہِ راست شامل تھے۔ پابندیوں کے دباؤ، جنگوں، سماجی عدم استحکام اور بیرونی سازشوں کے باوجود ایران نے ایک مضبوط، خود مختار اور مزاحمتی ریاست کے طور پر اپنے وجود کو برقرار رکھا ہے۔
یہ آرٹیکل ایران کی اسی تاریخی پائیداری، نظریاتی استقامت، علاقائی سیاست اور ان سازشی عوامل کا تحقیقی و تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے جو ایران کے اندرونی و بیرونی ماحول پر مسلسل اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔
انقلابِ ایران کے بعد عالمی سامراجی دباؤ
اسلامی انقلاب نے خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ایران اب صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک نظریاتی ماڈل بن گیا جس نے مغربی نظامِ سیاست اور خلیجی بادشاہتوں کو یکساں طور پر چیلنج کیا۔
امریکی پابندیاں: معاشی محاصرے کا تسلسل
امریکہ نے 1979ء سے ایران پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں عائد کیں۔ ان کا بنیادی مقصد ایران کی:
داخلی معیشت کو کمزور کرنا ،
دفاعی ٹیکنالوجی کو محدود کرنا ،
علاقائی اثرورسوخ روکنا ،
ایران کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیلنا
ایران—عراق جنگ (1980–1988)
یہ جنگ نہ صرف خلیج کی سب سے طویل جنگ تھی بلکہ ایران کے لیے وجودی نوعیت کی آزمائش بھی۔ اس جنگ میں مختلف عالمی طاقتوں نے عراق کی حمایت کی تاکہ ایران کو کمزور کیا جا سکے۔ اس کے باوجود ایران نے: دفاعی صنعت قائم کی، عسکری ٹیکنالوجی میں خود کفالت شروع کی ، جنگی معیشت کو مستحکم رکھا یہی خود انحصاری آگے چل کر ایران کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا بنیادی ستون بنی۔
2. فلسطین کے مسئلے پر ایران کا اصولی مؤقف
ایران نے فلسطین کی سیاسی، اخلاقی اور نظریاتی بنیادوں پر مسلسل حمایت کی۔ اس حمایت کے دو بڑے اثرات سامنے آئے:
اسرائیل—ایران دشمنی کی بنیاد
ایران نے اسرائیلی جارحیت کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا مرکز قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادی ایران کو خطے میں اپنے لیے سب سے بڑا نظریاتی اور عسکری چیلنج سمجھتے ہیں۔
مزاحمتی محور (Resistance Axis)
ایران نے لبنان، فلسطین، شام اور عراق میں مختلف مزاحمتی دھاروں کے ساتھ سیاسی تعاون قائم کیا۔ یہی محور خطے میں اسرائیلی اثرورسوخ کو محدود کرنے کی ایک بڑی وجہ بنا۔
3. امریکی دباؤ، فوجی حملے اور ایران کی عسکری پائیداری
براہ راست اور بالواسطہ فوجی دباؤ
امریکہ متعدد مرتبہ ایران پر:
ڈرون حملے
سائبر حملے (Stuxnet جیسے واقعات)
خطے میں فوجی محاذ آرائی
تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش جیسی کارروائیاں کر چکا ہے۔
اس کے باوجود ایران نے: اپنی دفاعی صنعت کو مضبوط کیا اور میزائل پروگرام کو بڑھایا کے علاوہ ریجنل اتحادی پیدا کیے
ایران کی ٹیکنالوجیکل ترقی
ایران نے پابندیوں کے باعث خود انحصاری کی طرف توجہ دی۔ آج ایران: ڈرون ٹیکنالوجی ، بیلسٹک میزائل ، دفاعی ریڈار سسٹم ، نیوکلیئر انرجی
کے شعبوں میں علاقائی سطح پر ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
4. بیرونی سازشیں، داخلی سیاست اور خطے کی مسابقت
ایران کے خلاف عالمی و علاقائی محاذ
ایران کی نظریاتی سیاست اور آزاد خارجہ پالیسی ہمیشہ سے متعدد طاقتوں کی آنکھ میں کھٹکتی رہی ہے۔ ان میں شامل ہیں امریکہ ، اسرائیل اور کچھ خلیجی ریاستیں
یورپی یونین کے سخت گیر حلقے
بھارت—اسرائیل تعلقات اور چاہ بہار کا پس منظر
چاہ بہار ایران کی معاشی و جغرافیائی حکمتِ عملی کا اہم منصوبہ ہے، جو: پاکستان کے قریب واقع ہونے اور گوادر کی جغرافیائی اہمیت بھارت کی وسط ایشیا تک رسائی جیسے نکات کے باعث خطے کی طاقتوں کے لیے بھی اہم ہے۔
اگرچہ چاہ بہار میں بھارت اور ایران کا تعاون ایک اقتصادی منصوبہ تھا، مگر پس پردہ حقائق کچھ اور تھے لیکن خطے کی بدلتی سفارتکاری، بھارت—اسرائیل تعلقات اور امریکہ—بھارت اسٹریٹجک شراکت داری نے اس منصوبے کو مختلف سیاسی بیانیوں میں شامل کر دیا۔ متعدد تجزیہ کاروں کے مطابق:
اسرائیل—بھارت قریبی تعلقات
امریکہ—بھارت دفاعی تعاون
خلیجی ممالک کی ایران مخالف پالیسی ایران کے گرد سفارتی دباؤ بڑھانے کا حصہ بنے۔
5. موجودہ صورتحال: نئی سازشیں، نئی حکمتِ عملی
ایران آج بھی ایک کثیرالجہتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے:
سخت معاشی پابندیاں
داخلی احتجاجی لہریں
علاقائی پراکسی جنگیں
اسرائیل—ایران کشیدگی
امریکی اسٹریٹجک دباؤ . تاہم ایران کی ریاستی ساخت—سپاہ پاسداران، دفاعی ادارے ، سفارتی نظام، مقبول مذہبی قیادت—اسے مکمل طور پر کمزور ہونے سے بچائے ہوئے ہے۔
ایران کی سفارتی حکمتِ عملی
ایران نے گزشتہ برسوں میں: چین کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے ، روس کے ساتھ عسکری تعاون ، خلیجی ریاستوں کے ساتھ مصالحتی عمل
علاقائی ٹریڈ کاریڈورز میں حصہ جیسے اقدامات کے ذریعے خود کو مکمل تنہائی سے نکالا ہے۔
مزاحمت کی روایت
ایران کی سیاسی و عسکری تاریخ کا سب سے نمایاں عنصر یہ ہے کہ یہ ریاست کسی بھی دباؤ میں:
نظریاتی پسپائی ، ریاستی کمزور ، عسکری سرنڈر جیسے فیصلے کرنے سے گریز کرتی ہے۔
یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ ایران آج بھی عالمی سیاست میں ایک “resilient power” کے طور پر موجود ہے۔
ایران کی کہانی محض ایک اسلامی ریاست کی کہانی نہیں، بلکہ مزاحمت، خود مختاری، نظریاتی استقلال اور عالمی سامراجی قوتوں کے مقابل ایک پرعزم ریاست کی داستان ہے۔ انقلاب سے لے کر آج تک ایران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ:
پابندیاں ، سازشیں ، حملے، سفارتی محاصرے
کسی بھی صورت اس کی ریاستی پائیداری کو ختم نہیں کر سکتے۔ ایران آج بھی ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہے اور خطے کے مستقبل میں اس کا کردار مزید بڑھنے کی طرف جا رہا ہے۔